خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 281
خطبات مسرور جلد سوم 281 خطبہ جمعہ 6 رمئی 2005 ء ہو رہی ہوگی۔کیونکہ نیکیوں کو رائج کیا جارہا ہوگا اور برائیوں سے روکا جار ہا ہوگا۔یہ نیک باتیں اور اچھی باتیں بے شمار ہیں جن کا قرآن کریم میں ذکر ہے۔مثلاً رشتہ داروں سے حسن سلوک ہے، امانت ہے، دوسروں کی خاطر قربانی ہے، انسانی ہمدردی ہے، دوسروں کے متعلق اچھے خیالات رکھنے کی تعلیم ہے، سچ بولنا ہے، دوسروں کو معاف کرنا ہے، صبر کرنا ہے، انصاف سے کام لینا ہے، دوسروں پر احسان کرنا ہے، اپنے وعدوں کو پورا کرنا ہے، ہر طرح کے گند، ذہنی بھی اور جسمانی بھی، سے اپنے آپ کو پاک رکھنا ہے۔ذہنی گند یہ ہے کہ دماغ میں دوسرے کو نقصان پہنچانے یا اخلاق سے گری حرکتیں کرنے کا خیال دل میں آئے۔پھر اچھی باتوں میں معاشرے میں آپس میں محبت اور پیار کو بڑھانا ہے۔رشتہ داروں سے اچھا سلوک کرنا ہے، ہمسایوں سے، اپنے ساتھ کام کرنے والوں سے اچھا سلوک کرنا ہے۔خوش اخلاقی ہے، پھر جواچھی حیثیت کے ہیں یعنی مالی لحاظ سے بہتر حیثیت کے ہیں ان کو خود بھی غریبوں کا خیال رکھنا چاہئے اور اس تعلیم کو پھیلانا بھی چاہئے۔اسی طرح بیشمار برائیاں ہیں جن سے انسان کو خود بھی رکھنا چاہئے اور دوسروں کو بھی اس طرف توجہ دلانی چاہئے کیونکہ نیکیاں اختیار کرنے کے لئے برائیاں چھوڑ نا از حد ضروری ہے۔ان برائیوں میں سے بعض کی مثال دیتا ہوں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایک مومن میں یہ برائیاں نہیں ہونی چاہئیں۔مثلاً کنجوسی کی عادت ہے یعنی دوسروں کی ضرورت کو دیکھ کر با وجود توفیق ہونے کے اس کی مدد نہ کرنا یا جماعتی چندوں میں ہاتھ روک کر رکھنا۔پھر بدظنی کرنا ہے، دوسروں پر بلا وجہ الزام لگانا ہے، لوگوں کو حقیر سمجھنا ہے، حسد کرنا ہے ، لغو اور بیہودہ باتیں ہیں جن سے اپنے آپ کو اور جماعت کو فائدہ پہنچنے کی بجائے نقصان ہو رہا ہوتا ہے۔کسی کی غیبت کرنا ہے۔جھوٹ بولنا ہے۔جھوٹ بھی ایک بہت بڑی لعنت ہے جو انسان کو دوسرے گنا ہوں میں مبتلا کر دیتی ہے۔خیانت کرنا ہے، اس میں آنکھ کی خیانت بھی ہے، مرد کا عورت کو بری نیت سے دیکھنا۔کسی کی امانت میں خیانت بھی ہے۔اس میں اور بھی بہت سی باتیں آجاتی ہیں۔مثلاً اپنا کام صحیح طرح نہ کرنا۔تو جیسا کہ میں نے کہا نیکیاں اختیار کرنے کے لئے برائیاں چھوڑنی ہوں گی۔کیونکہ نیکی اور بدی ایک جگہ نہیں رہ سکتے۔اس لئے ہمیشہ یہ کوشش ہونی چاہئے کہ جب بھی کسی نیکی