خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 278 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 278

خطبات مسرور جلد سوم 278 خطبہ جمعہ 29 اپریل 2005 ء احمد یہ بھی رہے ہیں۔اور بڑے ہنس مکھ اور خوش مزاج آدمی تھے۔اور بڑے عاجز انسان تھے۔نیکیوں میں بڑھنے والے اور بڑی بزرگ طبیعت کے مالک تھے، نیک طبیعت کے مالک تھے۔ایک لمبا عرصہ بیمار رہ کر ان کی دو تین دن پہلے وفات ہوئی ہے۔اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے۔دوسرے میرے بڑے بھائی مکرم مرزا ادریس احمد صاحب کی دو دن پہلے وفات ہوئی ہے۔پھیپھڑوں میں کینسر کی وجہ سے کچھ عرصہ سے بیمار تھے۔آپریشن ہوا تھا جس کے بعد طبیعت بگڑتی گئی۔چند ماہ پہلے سے، جب سے بیماری کا پتہ لگا، بڑی بہادری سے بیماری کا مقابلہ کیا بلکہ دوسرے عزیزوں کو بھی تسلی دلایا کرتے تھے۔بے نفس اور بڑی خوبیوں کے مالک تھے۔اللہ تعالیٰ ان سے مغفرت اور رحم کا سلوک فرمائے اور اپنے پیاروں کے قدموں میں جگہ دے۔یہ بھی دعا کریں کہ ہر دو وفات یافتگان جو ہیں ان کی نسلوں میں بھی خلافت اور جماعت سے وفا و محبت ہمیشہ قائم رہے۔ابھی نماز جمعہ اور عصر کے بعد ان کی نماز جنازہ غائب بھی میں پڑھاؤں گا۔جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ ان جلسوں کی ایک غرض یہ بھی ہوتی ہے کہ دوران سال جو دوست وفات پائیں ان کی مغفرت کے لئے بھی دعا کی جائے۔تو اس ملک کینیا میں بھی جو احمدی بزرگ جنہوں نے وفات پائی ہے ان کی مغفرت کے لئے دعا بھی اس جنازہ میں ساتھ شامل کر لیں۔امیر صاحب نے حاضری کی یہ رپورٹ دی ہے کہ ان کا پہلے جو جلسہ ہوا تھا اس میں پندرہ سو حاضری تھی۔اب اللہ کے فضل سے اس وقت سات ہزار دوسو حاضری ہے۔اور بہت سارے لوگ غربت کی وجہ سے بہت سارے علاقوں سے آئے بھی نہیں۔انشاء اللہ تعالیٰ میں ان علاقوں میں جا بھی رہا ہوں ، دورہ کروں گا۔بہر حال حاضری اس سے بہت بڑھ سکتی تھی۔