خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 277
خطبات مسرور جلد سوم 277 خطبہ جمعہ 29 اپریل 2005ء مطمئنہ حالت میں ہوتے ہیں۔ان سے اس طرح پر نیکیاں عمل میں آتی ہیں گویاوہ ایک معمولی امر ہے۔اس لئے ان کی نظر میں بعض اوقات وہ امر بھی گناہ ہوتا ہے جو اس حد تک دوسرے اس کو نیکی ہی سمجھتے ہیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کی معرفت اور بصیرت بہت بڑھی ہوئی ہوتی ہے۔یہی وجہ ہے جو صوفی کہتے ہیں حَسَنَاتُ الْأَبْرَارِ سَيِّئَاتُ الْمُقَرَّبِيْن۔(الحكم جلد نمبر 39 مورخه 10 نومبر 1905ء صفحه 5-6) اللہ کرے ہم اس کے مطابق نیکیاں کرنے والے ہوں اور نیکیوں میں بڑھنے والے ہوں اور ہر احمدی ایک دوسرے سے نیکیوں میں بڑھنے والا ہوتا کہ جب اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہوں تو خدا تعالیٰ ہمیں یہ نہ کہے کہ جب تمہیں نیکیوں کے کرنے بلکہ نیکیوں میں ایک دوسرے سے بڑھنے کا حکم تھا تو پھر کیوں تم نے ان پر عمل نہیں کیا۔اللہ ہم پر رحم فرمائے اور اپنے حکموں پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔اپنی بات ختم کرنے سے پہلے میں پھر آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ ان دو دنوں میں آپ نے جو بھی نیکی کی باتیں سکھی ہیں انہیں اپنی زندگیوں کا حصہ بنائیں۔اپنے گھروں میں جا کر یہ نیکی کی باتیں بھول نہ جائیں بلکہ اپنے بیوی بچوں میں بھی ان کو قائم کرنے کی بھر پور کوشش کریں۔اللہ تعالیٰ سب کو اس کی توفیق دے۔اللہ تعالیٰ آپ کو ان تمام دعاؤں کا وارث بنائے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے جلسہ پر آنے والوں کے لئے کی ہیں۔اللہ تعالیٰ ہمیشہ آپ کو اپنی حفاظت میں رکھے۔آپ کی ہر فکر ، رنج اور غم کو دور فرمائے اور اس ملک کی ترقی کے لئے نئی راہیں کھولے۔اور آپ سب کے دلوں میں جماعت اور خلافت سے وفا اور محبت کو بڑھاتا رہے۔آمین۔آخر پر خطبہ ثانیہ سے پہلے میں دو وفات شدگان کا ذکر کرنا چاہتا ہوں۔ایک تو ہیں مولانا محمد احمد صاحب جلیل۔یہ سلسلہ کے ایک پرانے خادم تھے۔انہوں نے جماعت کے شعبوں میں مختلف جگہوں پر کام کیا ہے اور جامعہ احمد یہ ربوہ میں بھی پڑھایا ہے۔ان کے بہت سارے شاگرد ہیں جو دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں اور خدمات دینیہ بجالا رہے ہیں۔یہ بڑا لمبا عرصہ مفتی سلسلہ عالیہ