خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 276
خطبات مسرور جلد سوم 276 خطبہ جمعہ 29 اپریل 2005 ء نیکیوں میں آگے بڑھنے کو اپنا مقصد قرار دیں۔ظاہر ہے جب ہم یہ فیصلہ کر لیں گے کہ ہم نے نیکیاں کرنی ہیں اور یہی ہماری زندگی کا مقصد ہے تو پھر برائی کے خیال بھی ہمارے دل میں کبھی نہیں آ سکتے۔کبھی یہ خیال بھی ہمارے دل میں نہیں آئے گا کہ ہم نے دل لگا کر محنت نہیں کرنی ، اپنے کام کا پورا حق ادا نہیں کرنا۔کبھی یہ خیال دل میں نہیں آئے گا کہ ہم نے کسی کا حق مارنا ہے۔کبھی یہ خیال نہیں آئے گا کہ ہم نے کسی بھی قسم کی اخلاقی برائی کرنی ہے۔کبھی یہ خیال نہیں آئے گا کہ ہم نے جھوٹ بولنا ہے یا کوئی غلط بات کر کے فائدہ اٹھانا ہے۔بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ بڑا جھوٹ بولنا گناہ ہے لیکن چھوٹی موٹی غلط بات بیان کرنا جائز ہے۔یہ سب نفس کے دھو کے ہیں۔ہر احمدی کو اس سے بچنا چاہئے۔اور صرف بچنا ہی نہیں چاہئے بلکہ یہ ارادہ کر لیں کہ ہم نے سوائے نیکیوں کے کچھ اور کرنا ہی نہیں اور جب یہ نیکیاں کر رہے ہوں گے تو پھر اس میں بڑھنے اور ترقی کرنے کی دوڑیں بھی لگیں گی ورنہ وہ مقصد حاصل کرنے والے نہیں ہوں گے جس کی خاطر آپ نے احمدیت قبول کی۔اللہ تعالیٰ سب کو توفیق دے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک اقتباس پیش کرتا ہوں۔آپ فرماتے ہیں کہ : اسلام میں انسان کے تین طبقے رکھے ہیں۔ظَالِمٌ لِنَفْسِهِ ، مُقْتَصِدٌ ، سَابِقٌ بِالْخَيْرَاتِ۔ظَالِمٌ لِنفْسِه تو وہ ہوتے ہیں جو نفس امارہ کے پنجے میں گرفتار ہوں۔اور ابتدائی درجہ پر ہوتے ہیں۔جہاں تک ان سے ممکن ہوتا ہے وہ سعی کرتے ہیں کہ اس حالت سے نجات پائیں۔مُقْتَصِدٌ وہ ہوتے ہیں جن کو میانہ رو کہتے ہیں۔ایک درجہ تک وہ نفس امارہ سے نجات پا جاتے ہیں۔لیکن پھر بھی کبھی کبھی اس کا حملہ اُن پر ہوتا ہے اور وہ اس حملہ کے ساتھ ہی نادم بھی ہوتے ہیں ، پورے طور پر ابھی نجات نہیں پائی ہوتی۔مگر سابق بِالْخَيْرَات وہ ہوتے ہیں کہ اُن سے نیکیاں ہی سرزد ہوتی ہیں اور وہ سب سے بڑھ جاتے ہیں۔ان کے حرکات وسکنات طبعی طور پر اس قسم کے ہو جاتے ہیں کہ اُن سے افعال حسنہ ہی کا صدور ہوتا ہے۔گویا ان کے نفس امارہ پر بالکل موت آ جاتی ہے اور وہ