خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 275 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 275

خطبات مسرور جلد سوم 275 خطبہ جمعہ 29 اپریل 2005ء بھی اسی میں ہے کہ دنیا ایک خدا کو مانے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے جمع ہو جائے۔پس اس چوٹی کو حاصل کرنے کے لئے ہر احمدی کو چاہئے کہ ایک دوسرے سے بڑھنے کی کوشش کرے۔ورنہ ہمارا یہ دعویٰ غلط ہوگا کہ ہم ہر میدان میں نیکیوں میں آگے بڑھنے والے لوگ ہیں اور یہ ہمارا سمح نظر ہے اور یہی ہمارا مقصد ہے۔پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک حسین معاشرے کے قیام کے لئے ایک بڑی اہم بات ہمیں یہ بتائی ہے جس پر عمل کر کے ہم جنت کے وارث ہو سکتے ہیں اس دنیا میں بھی اور مرنے کے بعد بھی، اور وہ ہے زبان پر قابو۔اگر ہم میں سے ہر شخص دوسرے کے لئے نیک خیالات رکھتا ہو، کبھی اس کے متعلق غلط بات کہنے کا خیال بھی دل میں نہ لائے۔ہمیشہ ایک دوسرے کے لئے نیک جذبات ہوں۔بعض دفعہ ایک شخص دوسرے کو ایسی بات کہہ جاتا ہے جو نامناسب ہوتی ہے، دوسرے کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے والی ہوتی ہے، جس کو یہ بات کہی جائے وہ اگر وقتی طور پر خاموش بھی رہے لیکن دل میں محسوس کرتا ہے اور اس کے دل میں رنجش کی دیوار کھڑی ہو جاتی ہے جو آہستہ آہستہ فساد کا باعث بنتی ہے۔اور جہاں یہ باتیں معاشرے میں تلخیوں کا باعث بنتی ہیں وہاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی تلخ اور کڑوی باتیں کرنے والوں کو انذار کیا ہے کہ وہ لوگ پھر جہنم میں اوندھے منہ گرتے ہیں۔تو دیکھیں کہ کہاں تو مومنوں کا یہ مطمح نظر کہ انہوں نے نیکیوں میں آگے بڑھنا ہے۔اور نہ صرف خود نیکیوں میں ترقی کرنی ہے بلکہ اپنے ساتھ دوسروں کو بھی اس کی ترغیب دلانی ہے، ان کو بھی نیکیوں میں اپنے ساتھ ملانا ہے۔اور کہاں یہ عمل کہ دوسرے کے جذبات کا خیال بھی نہ رکھنا تو ایسے لوگوں کو تو کبھی نہیں کہا جا سکتا کہ وہ ایسے لوگ ہیں جن کا صح نظر نیکیوں میں آگے بڑھنا ہے۔پس ہر احمدی کا فرض بنتا ہے کہ وہ نیکیوں میں ترقی کے لئے اپنی عبادتوں کے معیار بلند کرے۔جماعت کی خاطر قربانی کے معیار بلند کرے۔احمدیت یعنی حقیقی اسلام کے پیغام کو ہر شخص تک پہنچا کر تبلیغ کا حق ادا کرے اور اس کے ساتھ ساتھ مخلوق کے حق ادا کرنا بھی ضروری ہے۔ہرایسی چیز جو معاشرے میں امن پھیلانے کا باعث بنتی ہے، نیکی ہے۔اور ہمیں یہ حکم ہے کہ