خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 271
خطبات مسرور جلد سوم 271 خطبہ جمعہ 29 اپریل 2005 ء پوچھی ہے۔لیکن اگر اللہ تعالیٰ توفیق دے تو یہ آسان بھی ہے۔تو اللہ کی عبادت کر ، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرا، نماز پڑھ ، باقاعدگی سے زکوۃ ادا کر، رمضان کے روزے رکھ، اگر زادراہ ہو تو بیت اللہ کا حج کر۔پھر آپ نے یہ فرمایا کہ اب میں بھلائی اور نیکیوں کے دروازوں سے متعلق تجھے نہ بتاؤں؟ سنو ! روزہ گناہوں سے بچنے کی ڈھال ہے۔صدقہ گناہوں کی آگ کو اس طرح بجھا دیتا ہے جس طرح پانی آگ کو بجھا دیتا ہے۔رات کے درمیانی حصے میں نماز پڑھنا اجر عظیم کا موجب ہے۔پھر آپ نے یہ آیت پڑھی تَتَجَافَى جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ (السجدة: 17)۔پھر آپ نے فرمایا کیا میں تم کو سارے دین کی جڑ بلکہ اس کا ستون اور اس کی چوٹی نہ بتاؤں؟ میں نے عرض کی : جی ہاں یا رسول اللہ ! آپ نے فرمایا کہ دین کی جڑ اسلام ہے، اس کا ستون نماز ہے، اور اس کی چوٹی جہاد ہے۔پھر آپ نے فرمایا کیا میں تجھے اس سارے دین کا خلاصہ نہ بتاؤں ؟ میں نے عرض کی : جی ہاں یا رسول اللہ ! ضرور بتائیے۔آپ نے اپنی زبان کو پکڑا اور فرمایا اسے روک کر رکھو۔میں نے عرض کی اے اللہ کے رسول! کیا جو کچھ ہم بولتے ہیں اس کا بھی ہم سے مؤاخذہ ہو گا ؟ آپ نے فرمایا تیری ماں تجھ کو گم کرے ( یہ عربی کا محاورہ ہے افسوس کے اظہار کے لئے بولا جاتا ہے) فرمایا کہ لوگ اپنی زبانوں کی کائی ہوئی کھیتیوں یعنی اپنے بُرے بول اور بے موقع باتوں کی وجہ سے ہی جہنم میں اوندھے منہ گرتے ہیں۔(سنن الترمذی ابواب الايمان ـ باب ما جاء في حرمة الصلاة) تو دیکھیں کتنی فکر ہے کہ ہلکا سا بھی کوئی ایسا فعل سرزد نہ ہو جس سے دوزخ کی ہوا بھی لگے۔بلکہ ایسے کام سرزد ہوں، ایسی نیکیاں سرزد ہوں جو اللہ کی رضا حاصل کرنے والی ہوں۔یہ صحابہ کا رویہ ہوتا تھا۔لیکن دیکھیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا جواب کہ یہ ہے تو مشکل کام لیکن اگر تم اس بات پر قائم ہو جاؤ کہ تم نے اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنی ہے تو پھر اللہ تعالیٰ فضل بھی فرماتا ہے اور انسان کی جنت میں جانے کی خواہش بھی پوری ہو سکتی ہے۔لیکن اس کے لئے بعض