خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 268 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 268

خطبات مسرور جلد سوم 268 خطبہ جمعہ 29 اپریل 2005 ء اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ ” گناہ سے بچنے کی راہ کی طرف راہبری کرتا ہوں“۔دین میں اور روحانیت میں کوئی خود بخود اعلی معیاروں کو حاصل کرنے کے راستے تلاش نہیں کر سکتا۔جب تک خدا تعالیٰ کی طرف سے اس کا کوئی چنیدہ بندہ وہ راستے نہ دکھائے۔اور اس زمانے میں جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا وہ چنیدہ بندہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہیں۔بہر حال جیسا کہ میں نے کہا اللہ تعالیٰ کے قرب کے اعلیٰ معیار صرف کچھ عبادت کر کے حاصل نہیں ہو جاتے اور نہ ہی نیکیوں کی انتہا کچھ نیکیاں حاصل کرنے سے ہو جاتی ہے بلکہ یہ ایک مسلسل عمل ہے اور مسلسل سفر ہے جس پر چلتے ہوئے جب مومن اپنے خیال میں منزل کے قریب پہنچتا ہے تو اسے اور منزلیں نظر آنی شروع ہو جاتی ہیں۔پس ہر احمدی کا فرض ہے کہ نیکیوں کی منزلیں تلاش کرے۔ان میں عبادتیں بھی ہیں، نیک کام بھی ہیں، جن پر احمدی ہر وقت چلتا رہے اور نیکی کی منزلیں تلاش کرے۔اعلیٰ اخلاق ہیں جن میں ہر احمدی کو ترقی کرنی چاہئے۔لوگوں کے حقوق ادا کرنے میں ایک فکر کے ساتھ کوشش کرنی چاہئے۔غرض کہ ایک احمدی مسلمان کے سامنے ایک وسیع میدان ہے جس میں ہر وقت ایک لگن کے ساتھ اور ایک توجہ کے ساتھ کوشش کرتے ہوئے آگے بڑھنا ہے اور آگے بڑھتے چلے جانا ہے۔کسی ایک کام کو پکڑ کر خیال کرنا کہ ہم نے معیار حاصل کر لئے بالکل غلط ہے۔بلکہ اُن تمام نیکیوں میں جن کا قرآن کریم میں ذکر ہے ترقی حاصل کرو گے تو صحیح مومن کہلا سکو گے۔اور اسی بات کی طرف اللہ تعالیٰ نے ہمیں توجہ دلائی ہے۔یہ آیت جو میں نے تلاوت کی ہے اس کا ترجمہ یہ ہے کہ ہر ایک کے لئے ایک مطمح نظر ہوتا ہے جس کی طرف وہ منہ پھیرتا ہے۔پس نیکیوں میں ایک دوسرے پر سبقت لے جاؤ تم جہاں کہیں بھی ہو گے اللہ تعالیٰ تمہیں اکٹھا کر کے لے آئے گا۔یقینا اللہ ہر چیز پر جسے وہ چاہے دائی قدرت رکھتا ہے۔تو واضح ہو گیا کہ تمہاری زندگی کا مقصد اور شیح نظر جس کو سامنے رکھ کر ایک انسان اپنے راستوں کا تعین کرتا ہے ، وہ یہ ہونا چاہئے کہ تم نے نیکیوں میں ترقی کرنی ہے۔اور جب ہر