خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 267
خطبات مسرور جلد سوم 267 (16) خطبہ جمعہ 29 اپریل 2005 ء مسابقت في الخيرات اور احمدی کی ذمہ داریاں خطبه جمعه فرموده 29 اپریل 2005 ء بمقام نیروبی، کینیا (مشرقی افریقہ) تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے درج ذیل آیت قرآنی کی تلاوت کی:۔وَلِكُلِ وَجْهَةٌ هُوَ مُوَلَّيْهَا فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرَتِ أَيْنَ مَا تَكُونُوا * يَأْتِ بِكُمُ اللهُ جَمِيعًا إِنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ( البقرة : 149) پھر فرمایا:۔کال کی تقریر میں میں نے آپ لوگوں کو اس طرف توجہ دلائی تھی کہ انبیاء کے آنے کا جو مقصد ہوتا ہے اور جس مقصد کو لے کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مبعوث ہوئے وہ یہ ہے کہ خدا سے ملانا اور گناہ سے بچنے کے طریقے سکھانا اور نیکیوں کی طرف لے جانے والے راستے بتانا۔اس سے یہ غلط فہمی نہیں ہونی چاہئے کہ یہ مقصد ہم بڑی آسانی سے حاصل کر سکتے ہیں۔جب آپ نیکیوں پر قائم ہونے کی کوشش شروع کرتے ہیں اور کچھ نیکیاں بجالا نا شروع کرتے ہیں تو یہ ایک قدم ہے یا چند قدم ہیں جو ہم نے اس راستے میں اٹھائے ہیں۔یہ وہ انتہا نہیں ہے جس پر ایک احمدی مسلمان کو پہنچنا چاہئے۔اور انتہا ہو بھی نہیں سکتی کیونکہ ہر منزل پر اگلی منزل کا پتہ ملتا ہے جس کے لئے رہنما کی ضرورت ہوتی ہے۔