خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 266
خطبات مسرور جلد سوم 266 خطبہ جمعہ 22 اپریل 2005 ء ایسی گھمسان کی جنگ ہو رہی ہے کہ صحابہ برداشت نہیں کر سکتے مگر یہ مرد میدان سینہ سپر ہو کر لڑ رہا ہے۔اس میں صحابہ " کا قصور نہ تھا۔اللہ تعالیٰ نے ان کو بخش دیا بلکہ اس میں بھید یہ تھا کہ تا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شجاعت کا نمونہ دکھایا جاوے۔ایک موقع پر تلوار پر تلوار پڑتی تھی اور آپ نبوت کا دعویٰ کرتے تھے۔( یعنی حسنین کے واقعہ کا ذکر ہے کہ محمد رسول اللہ میں ہوں ) کہتے ہیں حضرت کی پیشانی پر ستر زخم لگے مگر زخم خفیف تھے۔یہ خلق عظیم تھا۔“ (ملفوظات جلد اول صفحه 84 جدید ایڈیشن - رپورٹ جلسه سالانه 1897ء صفحه 152 153) اللہ تعالیٰ ہم سب کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہر اسوہ پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔谢谢谢