خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 264 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 264

خطبات مسرور جلد سوم 264 خطبہ جمعہ 22 /اپریل 2005ء بہادر سمجھا جاتا تھا جو حضور کے شانہ بشانہ لڑتا تھا۔(صحیح مسلم کتاب الجہاد باب غزوة حنين) | تو کئی جگہوں سے اس کی گواہی ملتی ہے ایک آدھ صحابی کی مثال نہیں ہے۔تو یہ تھے جنگوں کے واقعات کہ کس طرح آپ جرات دکھاتے تھے اور کس طرح ان جنگوں میں صحابہ کی فکر کرتے تھے۔آپ ایک ایسے لیڈر تھے جو ہر وقت اپنی رعایا کی ، اپنے ماننے والوں کی فکر میں رہتے تھے۔ان کی حفاظت کا خیال رکھتے تھے اور راتوں کو اٹھ کر بے خوف ہوکر حالات کا جائزہ لیا کرتے تھے۔اسی طرح کے ایک واقعہ کا روایت میں ذکر ملتا ہے حضرت انسؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سب انسانوں سے زیادہ خوبصورت تھے اور سب انسانوں سے زیادہ بہادر تھے۔ایک رات اہل مدینہ کو خطرہ محسوس ہوا۔کسی طرف سے کوئی آواز آئی اور لوگ آواز کی طرف دوڑے۔تو سامنے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو آتے ہوئے ملے۔آپ بات کی چھان بین کر کے واپس آ رہے تھے۔اور حضرت ابوطلحہ کے گھوڑے کی تنگی پیٹھ پر سوار تھے۔آپ نے اپنی گردن میں تلوار لٹکائی ہوئی تھی۔آپ نے ان لوگوں کو سامنے سے آتے ہوئے دیکھا تو فرمایا ڈرو نہیں ، ڈرو نہیں میں دیکھ کر آیا ہوں کوئی خطرے کی بات نہیں ہے۔پھر آپ نے ابوطلحہ کے گھوڑے کے متعلق فرمایا کہ ہم نے اس کو تیز رفتاری میں سمندر جیسا پایا۔(صحيح بخاري كتاب الجهاد - باب الحمائل وتعليق السيف بالعنق) ایک اور روایت میں آتا ہے کہ ان دنوں مدینے میں دشمن کی طرف سے حملے کا خطرہ تھا جس کی وجہ سے ہر کوئی چوکس رہتا تھا کہ دشمن کہیں اچانک حملہ نہ کر دے۔ایسے حالات میں جب دشمن کی طرف سے خطرہ بھی ہو اس وقت اکیلے جا کر جائزہ لے کر واپس آنا غیر معمولی جرات کا اظہار ہے۔اور پھر اتنی فکر میں ، اتنی جلدی میں آپ گئے کہ گھوڑے پر زین بھی نہیں ڈالی۔اسی حالت میں گھوڑے کی ننگی پیٹھ پر ہی روانہ ہو گئے تا کہ جلدی سے جائزہ لیا جاسکے۔دوسرے لوگ دوسرے کام کرنے والے لوگ ابھی سوچ رہے ہیں کہ کس طرح جائزہ لیں ، کس طرف سے شور کی