خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 261
خطبات مسرور جلد سوم 261 خطبہ جمعہ 22 اپریل 2005ء سے آپ کے خود کی دو کڑیاں آپ کے رخسار میں چڑھ گئیں۔(السيرة النبوية لابن هشام - غزوة احد - مالقيه الرسول يوم احد) آپ لہولہان ہو گئے تھے لیکن کوئی پناہ گاہ تلاش نہیں کی کہ جہاں بیٹھ کر پٹی کروائیں اور خون صاف کریں یا آرام کریں۔اور صرف اس لئے کہ آپ کی یہ جرات دیکھ کر مسلمان بھی جمع ہوں اور دشمن کا مقابلہ کریں جیسا کہ مقابلہ کرنے کا حق ہے۔پھر دیکھیں اس زخمی حالت میں جب آپ لہولہان تھے، جنگ تقریبا ختم تھی کیونکہ اب کفار اپنے زخمیوں کی دیکھ بھال کر رہے تھے اور مسلمان شہداء کے چہرے بگاڑنے کی کوشش کر رہے تھے۔یہ اُس زمانے میں رواج تھا کہ ناک کان وغیرہ کاٹ لیتے تھے تو اس وقت جب جنگ ذرا ٹھنڈی ہوئی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کے ساتھ ایک محفوظ جگہ پر جانے لگے تو راستے میں ابی بن خلف نے آپ کو دیکھ لیا اور پہچان لیا اور آپ پر وار کرنے کے لئے آگے بڑھا۔اس وقت آپ زخمی حالت میں تھے۔لیکن اس وقت بھی آپ نے جرأت کا مظاہرہ کیا۔اس واقعہ کا ذکر یوں ملتا ہے کہ جنگ اُحد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زخمی ہونے کے بعد جب صحابہ کے ساتھ ایک گھائی میں ٹیک لگائے ہوئے تھے۔دوسری روایت میں ہے کہ پہاڑی کی طرف جا رہے تھے تو بہر حال ابی بن خلف نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر للکارتے ہوئے پکارا کہ اے محمد ! ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اگر آج تم بچ گئے تو میری زندگی عبث ہے، فضول ہے صحابہ نے عرض کی یا رسول اللہ ! کیا ہم میں سے کوئی اس کی طرف بڑھے!۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اسے چھوڑ دو اور راستے سے ہٹ جاؤ۔اسے میری طرف آنے دو جب وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب آیا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے نیزہ تھام لیا اور آگے بڑھ کر اس کی گردن پر ایک ہی وار کیا جس سے وہ چنگھاڑتا ہوا مڑا اور اپنے گھوڑے سے زمین پر گر گیا ، قلابازیاں کھانے لگا۔(السيرة النبوية لابن هشام ، غزوة احد، مقتل ابی بن خلف) اس حالت میں جو کمزوری کی حالت تھی ، خون بے تحاشا بہا ہوا تھا، زخمی تھے، مرہم پٹی بھی کوئی نہیں ہوئی تھی۔آپ نے کسی صحابی کو آگے نہیں بڑھنے دیا بلکہ فرمایا کہ نہیں اس کا علاج میں