خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 257 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 257

خطبات مسرور جلد سوم 257 خطبہ جمعہ 22 راپریل 2005 ء نے آپ کے پکڑے جانے کے لئے 100 اونٹ کا انعام مقرر کیا ہوا تھا۔اور اس کے لالچ میں کئی لوگ آپ کی تلاش میں نکلے ہوئے تھے۔ان میں ایک سراقہ بن مالک بھی تھے تو ان کا بیان ہے کہ میں گھوڑا دوڑاتے دوڑاتے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قدرنزدیک ہو گیا کہ میں آپ کے قرآن پڑھنے کی آواز سن رہا تھا۔میں نے دیکھا کہ آپ دائیں بائیں بالکل نہیں دیکھتے تھے ہاں حضرت ابو بکر بار بار دیکھتے جاتے تھے۔تو اس حالت میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی گھبراہٹ نہیں تھی بلکہ آرام سے کلام الہی کی تلاوت فرمارہے تھے۔(بخاری کتاب مناقب الانصار - باب هجرة النبى واصحابه الى المدينة) ایک دوسری روایت میں ہے کہ آپ نے حضرت ابوبکر سے فرمایا کہ فکر کیوں کرتے ہو اللہ ہمارے ساتھ ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کی ذات پر کامل یقین تھا۔آپ کو ہر وقت اور ہر موقع پر یہی یقین ہوتا تھا کہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہمارے ساتھ ہے جس کی وجہ سے خطرناک سے خطرناک موقعے پر بھی آپ کو کبھی گھبراہٹ نہیں ہوئی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی امن پسند طبیعت لڑائیوں اور جنگوں کو نہیں چاہتی تھی۔لیکن فطرتی جرات اور بہادری کو بھی یہ گوارا نہیں تھا کہ دشمن سے اگر مقابلہ ہو جائے تو پھر بزدلی کا مظاہرہ کیا جائے۔اور آپ اپنے صحابہ کو بھی یہ نصیحت فرماتے تھے کہ اگر جنگ ٹھونسی جائے تو پھر بز دلی نہیں دکھانی۔چنانچہ اس بارے میں حضرت عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موقع پر دشمن سے مقابلے کے لئے اتنا انتظار فرمایا کہ یہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا۔پھر آپ نے لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ اے لوگو! دشمن سے لڑائی کی تمنا نہ کرو بلکہ اللہ سے عافیت طلب کرتے رہو۔لیکن جب دشمن سے مڈ بھیڑ ہو جائے تو صبر واستقامت دکھاؤ اور اس بات کا یقین کرو کہ جنت تلواروں کے سائے تلے ہے۔اس کے بعد آپ نے دعا کی کہ "اللَّهُمَّ مُنْزِلَ الْكِتَب وَمُجْرِئَ السَّحَابِ وَهَازِمِ الْأَحْزَابِ اهْزِمُهُمْ وَانْصُرْنَا عَلَيْهِمْ “اے اللہ ! جو کتاب نازل کرنے والا ہے۔بادلوں کو چلانے والا ہے اور دشمن