خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 252
خطبات مسرور جلد سوم 252 خطبہ جمعہ 22 اپریل 2005 ء تھے۔قریش مکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب خانہ کعبہ میں اس طرح عبادت کرتے ہوئے دیکھتے تھے تو بہت غصے میں آ جایا کرتے تھے کہ ہمارے بتوں کو برا بھلا کہتے ہیں اور پھر ہمارے سامنے ہی بغیر کسی جھجک کے اپنے طریق پر اپنی عبادتیں بھی کر رہے ہیں، طواف بھی کر رہے ہیں۔چنانچہ ایک دفعہ ایسے ہی ایک موقع پر قریش کا رویہ کیا تھا اس کا ذکر عبداللہ بن عمرو بن عاص نے کیا ہے۔کہتے ہیں کہ ایک روز میں خانہ کعبہ کے قریب موجود تھا تو قریش کے سب بڑے بڑے لوگ حجر اسود کے پاس خانہ کعبہ میں اکٹھے ہوئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کرنے لگے کہ یہ بتوں کو برا بھلا کہتے ہیں اور ہم نے بڑا صبر کر لیا اور اب صبر کی انتہا ہو گئی ہے۔تو کہتے ہیں کہ یہ لوگ باتیں کر رہے تھے کہ اتنے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور آپ طواف میں مشغول ہو گئے۔جب آپ طواف کرتے ہوئے ان لوگوں کے پاس سے گزرتے تو کفار آپ پر آوازے کتے تھے ، بیہودہ باتیں آپ کے متعلق کرتے تھے۔چنانچہ تین بارایسا ہوا۔کہتے ہیں کہ میں نے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک پر دکھ محسوس کیا اور تیسری دفعہ آوازے کسنے پر آپ کھڑے ہو گئے اور آپ نے فرمایا کہ اسے گروہ قریش ! قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے کہ میں تم جیسوں کی ہلاکت کی خبر لے کر آیا ہوں۔راوی کہتے ہیں کہ اس بات کا قریش پر ایسا اثر ہوا کہ وہ سکتے کی حالت میں آگئے۔اور جو شخص اُن میں سب سے زیادہ بڑھ بڑھ کر باتیں کرنے والا تھا وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑی نرمی سے بات کرنے لگا اور کہنے لگا کہ آپ تشریف لے جائیں۔( جو بھی معذرت کی ) پھر آپ وہاں سے تشریف لے آئے۔دوسرے روز پھر یہ لوگ اکٹھے ہوئے اور ہر طرف سے آپ کو گھیر لیا اور کہنے لگے کہ تم ہی ہو جو ہمارے بتوں میں عیب نکالتے ہو، ہمارے دین کو برا بھلا کہتے ہو۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ہاں میں کہتا ہوں۔تو دیکھیں کس جرات سے آپ اکیلے تن تنہا ظالموں اور جابروں کے گروہ کے بیچ میں چلے جایا کرتے تھے۔قطعاً اس کی پرواہ نہیں کرتے تھے کہ یہ ظالم اور انسانیت سے عاری لوگ آپ کے ساتھ کیا سلوک کریں گے۔اور پھر یہی نہیں بلکہ ان کولکار کر کہا کہ تم جو آج بڑھ کر بڑھ کر مجھ سے باتیں کر رہے ہو ، مجھے پر باتیں بنا رہے ہو، میرے خلاف غلیظ اور