خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 249 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 249

خطبات مسرور جلد سوم 249 (15) خطبہ جمعہ 22 اپریل 2005 ء آنحضرت صلی اللہ علیم کا خلق عظیم شجاعت و بہادری خطبه جمعه فرموده 22 اپریل 2005 ء بمقام مسجد بیت الفتوح۔مورڈن، لندن۔تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے درج ذیل آیت قرآنی کی تلاوت کی :۔الَّذِينَ يُبَلِّغُونَ رِسَلَتِ اللهِ وَيَخْشَوْنَهُ وَلَا يَخْشَوْنَ اَحَدًا إِلَّا الله وَكَفَى بِاللهِ حَسِيْبَان (الاحزاب : 40) پھر فرمایا:۔اللہ تعالیٰ کے انبیاء کا ایک خلق بہادری اور جرات بھی ہوتا ہے۔اور یہ خدا تعالیٰ پر یقین اور تو گل کی وجہ سے مزید ابھرتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے جو کام ان کے سپرد کئے ہوتے ہیں وہ اس وقت تک انجام نہیں دیئے جاسکتے جب تک جرات اور بہادری کا وصف ان میں موجود نہ ہو۔دوسرے اوصاف کی طرح یہ وصف بھی انبیاء میں اپنے زمانے کے لوگوں کی نسبت سب سے زیادہ ہوتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جو خاتم الانبیاء ہیں، ان میں تو یہ وصف تمام انسانوں سے بلکہ تمام نبیوں سے بھی بڑھ کر تھا۔جس کی مثالیں نہ اُس زمانے میں ملتی تھیں، نہ آئندہ زمانوں میں مل سکتی ہیں۔جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر موقع پر جرات کا مظاہرہ کیا ہے تاریخ میں کسی لیڈر کی ایسی مثال نظر نہیں آتی بلکہ سوواں، ہزارواں حصہ بھی نظر نہیں آتی۔انتہائی مشکل حالات میں بھی قوم کا