خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 244 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 244

خطبات مسرور جلد سوم 244 خطبہ جمعہ 15 اپریل 2005 ء بھی ان کے بچوں اور ان کے اپنے شور سے ڈسٹرب ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔اور پھر ایسی صورت میں بعض دفعہ ہسپتال کی انتظامیہ کو سختی بھی کرنی پڑتی ہے۔ہمارے معاشرے میں بہت زیادہ رش کرنے کی عموماً عادت ہے۔بعض اوقات مریض کے پاس زیادہ رش کرنے کی وجہ سے لوگوں کی سانسوں کی وجہ سے، مختلف قسم کے لوگ ہوتے ہیں، فضا بھی اتنی صاف نہیں رہتی جس سے مریض کی تکلیف بڑھنے کا بھی امکان ہوتا ہے۔اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھیں ہمارے سامنے پہلے ہی یہ اسوہ رکھ دیا کہ مریض کی عیادت کرو، اس کو تسلی دو، اس کے لئے دعا کرو اور واپس آ جاؤ۔وہاں بیٹھ کے مجلسیں نہ جاؤ۔اسی طرح ان کے علاوہ مریض کے گھر والوں کو بھی جو تیمار داری کر رہے ہیں زیادہ رش نہیں کرنا چاہئے۔پھر اپنی امت کو بھی آپ نے اس خلق کو اپنانے اور مریضوں کی عیادت کرنے کی طرف توجہ دلائی۔ایک روایت میں آتا ہے۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن فرمائے گا اے ابن آدم ! میں بیمار ہوا تھا تو نے میری عیادت نہیں کی۔اس پر وہ جواب دے گا تو رب العالمین ہے تو کیسے بیمار ہوسکتا ہے اور میں تیری عیادت کس طرح کرتا۔اللہ تعالیٰ فرمائے گا کیا تجھے معلوم نہیں ہوا تھا کہ میرا فلاں بندہ بیمار ہے اور تو اس کی عیادت کے لئے نہیں گیا تھا۔کیا تجھے یہ سمجھ نہ آئی کہ اگر تو اس کی عیادت کرتا تو مجھے اس کے پاس پاتا اور اس کی عیادت میری عیادت ہوتی۔(مسلم - كتاب البر والصلة - باب فضل عيادة المريض) پس مریضوں کی عیادت کرنا بھی خدا تعالیٰ کے قرب کو پانے کا ایک ذریعہ ہے۔ہمیں اس طرف توجہ دینی چاہئے۔خاص طور پر جو ذیلی تنظیمیں ہیں ان کو میں ہمیشہ کہتا ہوں۔خدمت خلق کے جو اُن کے شعبے ہیں لجنہ کے، خدام کے، انصار کے ایسے پروگرام بنایا کریں کہ مریضوں کی عیادت کیا کریں، ہسپتالوں میں جایا کریں۔اپنوں اور غیروں کی ،سب کی عیادت کرنی چاہئے اس میں کوئی حرج نہیں، بلکہ یہ بھی ایک سنت کے مطابق ہے۔اور ہمیشہ اس کوشش میں رہنا چاہئے کہ زیادہ سے زیادہ اللہ تعالیٰ کے قرب پانے کے ذریعے ہم اختیار کریں۔