خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 241
خطبات مسرور جلد سوم 241 خطبہ جمعہ 15 اپریل 2005 ء اسی طرح دعا کے ساتھ صدقات کی طرف بھی توجہ دینی چاہئے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بارے میں بڑی توجہ دلائی ہے۔چنانچہ ایک روایت میں آتا ہے آپ نے فرمایا کہ اپنے مریضوں کا علاج صدقات کے ساتھ کرو یہ تم سے بیماریوں اور آنے والے ابتلاؤں کو دور رکھتا ہے۔(کنز العمال) كتاب الطب - حدیث نمبر 28182) تو ایک تو بیماری کی صورت میں صدقات کا حکم ہے کہ یہ بھی ایک قسم کا علاج ہے۔پھر بیماریوں اور بلاؤں سے بچنے کے لئے بھی اس طرف توجہ دلائی کہ صدقات دیتے رہنا چاہئے۔کیونکہ اگر چھوٹے موٹے ابتلاء آتے بھی ہیں تو ان دعاؤں اور صدقات کی وجہ سے اللہ تعالیٰ ان کے بدنتائج سے محفوظ رکھتا ہے۔پھر آپ مریضوں کی عیادت کے وقت اس کی خواہش کے مطابق خوراک کے انتظام کی بھی کوشش فرمایا کرتے تھے۔مریض کے بارے میں کوئی پہلو ایسا نہیں جس کو آپ نے چھوڑا ہو۔اس بارے میں ایک روایت میں آتا ہے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کی عیادت کی اور اس سے دریافت فرمایا کہ تمہیں کس چیز کی خواہش ہے۔اس نے عرض کی کہ میں گندم کے آٹے کی روٹی کھانا چاہتا ہوں۔(اس وقت) یہ ایسی خوراک تھی جو ہر ایک کو میسر نہیں ہوتی تھی۔اس کی بات سن کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس کے پاس گندم کے آٹے کی روٹی ہو تو وہ اپنے اس بھائی کو لا کر دے۔پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کسی کا مریض کسی چیز کے کھانے کی خواہش کرے تو اسے چاہئے کہ وہ اسے کھلائے۔(سنن ابن ماجه - كتاب الجنائز باب ما جاء في عيادة المريض) پھر اسی طرح کی ایک اور روایت ہے۔حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک مریض کی عیادت کے لئے تشریف لے گئے اور اس سے دریافت فرمایا تمہارا کوئی چیز کھانے کو دل کرتا ہے؟ پھر خودہی فرمایا کیا تم دودھ شکر میں گوندھے