خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 236 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 236

خطبات مسرور جلد سوم 236 خطبہ جمعہ 15 اپریل 2005 ء حاضر تھے کہ ایک انصاری آیا تو حضور نے اس سے پوچھا کہ میرے بھائی سعد بن عبادہ کا کیا حال ہے؟ اس نے کہا کہ بہتر ہے۔اس پر حضور نے فرمایا اس کی عیادت کے لئے تم میں سے کون کون چلے گا۔چنانچہ حضور اٹھ کھڑے ہوئے اور ہم تیرہ کے قریب افراد حضور کے ساتھ چل پڑے اور حضرت سعد بن عبادہ کی خیریت معلوم کی۔(صحيح مسلم - كتاب الجنائز - باب في عيادة المرضى) تو ایک تو اپنے ساتھیوں کو یہ احساس دلانے کے لئے آپ ساتھ لے گئے کہ مریض کی عیادت کرنی چاہئے ، اس کی بیمار پرسی کرنی چاہئے۔اور پھر جو آپ کا دعا کا عمومی طریق تھا اس لئے بھی کہ لوگ میرے ساتھ ہوں گے تو ہم دعا کریں گے اور زیادہ سے زیادہ لوگ اس دعا میں شامل ہو جائیں گے۔بیماری میں انسان کے جذبات بہت حساس ہوتے ہیں۔جو وطن سے دور ہوں انہیں اس حالت میں وطن بھی بہت یاد آتا ہے۔حضرت ابو بکر اور حضرت بلال ایک دفعہ بیمار ہوئے تو ان کے جذبات کی بھی کچھ ایسی ہی کیفیت تھی جس کی تفصیل کے بارے میں اُم المومنین حضرت عائشہؓ روایت کرتی ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو ابوبکر اور بلال کو بخار ہو گیا۔تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں ان کی عیادت کے لئے گئی تو میں نے حضرت ابوبکر کو مخاطب کر کے کہا: اتا! آپ کا کیا حال ہے اور اے بلال! تمہارا کیا حال ہے۔حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب حضرت ابوبکر کو بخار ہوتا تھا تو آپ یہ شعر بڑھا کرتے تھے کہ كُلُّ امْرِي مُصَبَّحَ فِي أَهْلِهِ وَالْمَوْتُ أَدْنَى مِنْ شِرَاكِ نَعْلِهِ کہ ہر شخص اپنے گھر والوں میں صبح کرتا ہے حالانکہ موت اس کی جوتی کے تسمے سے بھی زیادہ قریب ہوتی ہے۔اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ کا بخار جب ٹوٹتا تھا وہ اپنی چادر اٹھا کر مکہ کو یاد کر کے جو شعر پڑھتے تھے اس کا مفہوم یہ ہے کہ ہائے مجھ پر وہ دن بھی آئے گا جب میں رات ایسی وادی میں گزاروں گا جب میرے ارد گر دا ذخر گھاس اور جلیل اُگی ہوگی۔“