خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 233
خطبات مسرور جلد سوم 233 خطبہ جمعہ 15 اپریل 2005ء یعنی یہ رسول تمہاری تکالیف کو دیکھ نہیں سکتا، وہ اس پر سخت گراں ہے ( بہت تکلیف دہ ہے ) اور اُسے ہر وقت اس بات کی تڑپ لگی رہتی ہے کہ تم کو بڑے بڑے منافع پہنچیں“۔(الحكم جلد 6 نمبر 26 صفحه 6 مورخه 24/ جولائی 1902ء) پس اس سے دوسروں کے لئے آپ کے جذبات کی جو کیفیت ہوتی تھی اس کی مزید وضاحت ہو گئی۔انسان کو آنے والی مختلف قسم کی تکلیفیں ہیں، پریشانیاں ہیں، ان میں سے ایک تکلیف، جس کا کم و بیش ہر ایک کو سامنا ہوتا ہے بلکہ یہ کہنا چاہئے کہ ہر ایک کو کسی نہ کسی صورت میں یہ تکلیف پہنچتی ہے، وہ جسمانی عوارض یا بیماری ہے۔تو آج میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اُسوہ کے اس پہلو کولوں گا کہ آپ مریضوں کی عیادت ، تیمار داری اور دعاؤں کی طرف کس طرح توجہ فرمایا کرتے تھے۔آپ کے اُسوہ سے ہمیں یہ بھی پتہ لگتا ہے کہ اپنے لئے اور اپنی تکلیف کے لئے وہ جذبات نہیں ہوتے تھے جو دوسرے کی تکلیف کے لئے ہوتے تھے۔اور جیسا کہ میں نے کہا کہ اس درد سے دعائیں کیا کرتے تھے کہ جس کی مثال ملنی بھی مشکل ہے۔چند مثالیں اس کی پیش کرتا ہوں، چند واقعات کہ کس طرح آپ مریضوں کے لئے دعا کیا کرتے تھے، کس طرح جا کے ان کو پوچھا کرتے تھے، کیا آپ کا طریق ہوتا تھا۔لیکن اس سے پہلے ایک صحابی کی یہ گواہی میں بتا دوں۔ایک روایت میں آتا ہے۔حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ کی یہ گواہی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تمام انسانوں میں سے بہترین عیادت کرنے والے تھے۔(سنن نسائی -كتاب الجنائز - باب عدد التكبير على الجنازة) پس اس سے ظاہر ہے کہ آپ اپنوں سے بھی بڑھ کر ہمدردی کے ساتھ مریض کی عیادت کیا کرتے تھے۔چھوٹی موٹی تکلیفیں تو انسان کو لگی رہتی ہیں۔اُس میں بھی آپ پوچھا کرتے تھے جب کسی سے رابطہ ہوتا لیکن اگر دو تین دن سے زیادہ کوئی بیمار ہوتا اور آپ کے علم میں یہ بات آتی تو آپ فوراً اس کی عیادت کے لئے جاتے اور اس کے لئے دعا کرتے۔چنانچہ اس بارے میں ایک روایت میں آتا ہے کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ