خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 232
خطبات مسرور جلد سوم 232 خطبہ جمعہ 15 اپریل 2005ء لئے دعائیں کروں، ان کی تکلیفوں کو دور کروں۔اب اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے یہ الفاظ استعمال کئے ہیں کہ یہ رسول تمہاری بھلائی کا حریص رہتا ہے۔یہ حریص کوئی محدود معنی والا لفظ نہیں ہے جیسے ہم کہہ دیں کہ لالچ میں رہتا ہے۔گو یہ لالچ میں رہنا بھی کوئی معمولی بات نہیں ہے۔دنیالالچ کرتی ہے تو اپنے لئے کرتی ہے کہ ہمیں فائدہ پہنچ جائے ، ہماری تکلیفیں دور ہو جائیں لیکن ہمارے پیارے آقاصلی اللہ علیہ وسلم اگر یہ لالچ کر رہے ہیں تو دوسروں کے لئے کہ ان کو فائدہ ہو، ان کی تکلیفیں دور ہوں۔بہر حال اس لفظ کے اور بھی بڑے وسیع معنی ہیں۔یعنی بڑی شدت سے یہ خواہش کرنا کہ کسی بھی طرح دوسرے کو فائدہ پہنچا سکوں اور اس میں ذاتی دلچسپی لینا اور پھر اس معاملے میں نہایت احتیاط سے دوسرے کے جذبات کا احترام کرتے ہوئے اس کے لئے درد اور ہمدردی رکھنا ، اس کے لئے خود تکلیف برداشت کرنا۔تو یہ رویہ ہوتا تھا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا دوسروں کی تکلیف کو دیکھ کر۔اور پھر اس تکلیف کو دور کرنے کے لئے آپ تمام ذرائع اور وسائل استعمال کرتے تھے۔اور ان تکلیفوں کو دور کرنے اور دوسروں کو آرام پہنچانے کے لئے آپ کے دل میں بے انتہا مہر بانی کے جذبات ہوتے تھے اور اس سے آپ کبھی نہیں تھکتے تھے۔اور دوسروں کے لئے ہمدردی اور رحم کے جذبات کا آپ کا ایک ایسا وصف تھا کہ اس وصف کا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا تھا۔بے حد مہربان ہونے اور بار بار رحم کرنے کی خدائی صفت کا انسانوں میں کامل اور اعلیٰ نمونہ صرف اور صرف آپ کی ذات میں تھا جس کی اللہ تعالیٰ بھی گواہی دے رہا ہے۔اس بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : ”جذب اور عقد ہمت ایک انسان کو اُس وقت دیا جاتا ہے ( یعنی تکلیفوں کو محسوس کرنے کی طاقت اور تکلیف دور کرنے کا احساس اس وقت دیا جاتا ہے جبکہ وہ خدا تعالیٰ کی چادر کے نیچے آ جاتا ہے اور ظل الله بنتا ہے۔پھر وہ مخلوق کی ہمدردی اور بہتری کے لئے اپنے اندر ایک اضطراب پاتا ہے۔ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس مرتبہ میں گل انبیاء علیہم السلام سے بڑھے ہوئے تھے اس لئے آپ مخلوق کی تکلیف دیکھ نہیں سکتے تھے۔چنانچہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُمْ