خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 227 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 227

خطبات مسرور جلد سوم 227 خطبہ جمعہ 8 /اپریل 2005ء ہے۔انہوں نے کہا نہیں لیکن افق کی طرف دیکھیں۔میں نے دیکھا تو ایک بہت بڑا گر وہ تھا جبریل نے کہا یہ ستر ہزار ہیں جو تیری امت کے ہراول دستے کے طور پر ہوں گے اور ان سے حساب نہ لیا جائے گا، نہ انہیں عذاب دیا جائے گا۔آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیوں حضرت جبریل نے کہا کہ وہ تعویذ گنڈے نہیں کرتے تھے اور نہ وہ دم درود کرتے تھے۔اور نہ وہ بدشگون لیتے تھے اور اپنے رب پر توکل کرتے تھے۔یہ وہ لوگ ہیں جو بے حساب جانے والے ہیں۔اس پر مجلس میں بیٹھے ہوئے عکاشہ بن محصن کھڑے ہوئے۔انہوں نے عرض کی حضور ! آپ دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ مجھے ان میں بنا دے۔تو آپ نے فرمایا : اے عکاشہ ! تو بھی ان میں شامل ہے۔( بخاری کتاب الرقاق باب يدخل الجنة سبعون ألفا بغير حساب) تو آجکل کے حالات کے مطابق مسلمانوں میں تو یہ عموماً پایا جاتا ہے لیکن غیروں کی دیکھا دیکھی بعض احمدیوں میں بھی تعویذ گنڈوں پر اعتقاد پیدا ہو گیا ہے جو بالکل غلط چیز ہے۔انڈیا پاکستان وغیرہ سے بھی اور بعض افریقن ممالک سے بھی بعض ایسے خط آتے ہیں جن سے ایسے لوگوں کی حالت کا پتہ لگتا ہے کہ ان کا بہت زیادہ اوٹ پٹانگ چیزوں پر اعتقاد بڑھ رہا ہے۔پس اس روایت کی روشنی میں یہ دیکھیں اس سے ہمیشہ بچنا چاہئے۔کیونکہ وہی لوگ جو اللہ پر توکل کرتے ہیں اور ان برائیوں سے بچنے والے ہیں ، ٹونے ٹوٹکوں سے بچنے والے ہیں۔تعویذ گنڈوں سے بچنے والے ہیں ، وہی ہیں جو اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے والے ہیں۔اس لئے ہمیشہ اللہ تعالیٰ پر توکل رکھنا چاہئے اور اسی کی پناہ میں رہنا چاہئے۔بلکہ آپ نے تو ایک جگہ یہ بھی فرمایا ہے کہ بدشگونی شرک ہے۔تو آپ نے تین مرتبہ یہ بات دوہرائی اور فرمایا کہ تو کل کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اسے دور فرما دیتا ہے۔یعنی اگر تو کل کامل ہے تو پھر اگر دل میں کوئی خیال بھی پیدا ہوگا تو شاید اس تو کل کی وجہ سے دور ہو جائے۔اس لئے یہ جو بدشگونی اور اس قسم کی چیزیں ہیں ان چیزوں سے بچنا چاہئے کیونکہ یہ شرک کے برابر ہیں۔کتنا بڑا انذار ہے۔پھر ایک روایت میں آتا ہے۔حضرت عمرو بن عاص سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ابن آدم کے دل کی ہر وادی میں ایک گھائی ہوتی ہے۔اور جس کا دل ان سب