خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 16
خطبات مسرور جلد سوم 16 خطبہ جمعہ 17 جنوری 2005ء سال گزرنے کے بعد بھی اخلاص و وفا کے نمونے دکھا رہی ہیں۔کیونکہ اس کے بغیر تزکیہ نفس نہیں ہوسکتا۔اور دلوں کی پاکیزگی قربانیوں سے ہی پیدا ہوتی ہے۔ورنہ اخراجات کی تو آپ کو فکر نہ تھی۔آپ فرماتے ہیں کہ : آخر خدا تعالیٰ نے یہ ارادہ فرمایا ہے کہ خود اپنے ہاتھ سے اس نے اس سلسلے کو قائم کیا ہے۔وہ خود ہی اس کا حامی و ناصر ہے۔لیکن وہ چاہتا ہے کہ اپنے بندوں کو ثواب کا مستحق بنادے۔پس اس ثواب کو حاصل کرنے کے لئے یاددہانی کروائی جاتی ہے۔قربانیوں کے یہ معیار قائم کریں۔مختلف تحریکات ہیں جماعت میں۔اللہ تعالیٰ سب کو معیار بڑھانے کی توفیق عطا فرمائے۔اب میں وقف جدید کا 47 واں سال 31 دسمبر کو جو ختم ہوا ہے اور 48 واں سال شروع ہوا ہے۔کے کچھ کو الف پیش کروں گا۔اور یہ جیسا کہ میں نے کہا 48 واں سال شروع ہوا ہے اس سال کا اعلان کروں گا۔رپورٹس کے مطابق اللہ تعالیٰ کے فضل سے وقف جدید کی کل وصولی 19 لاکھ 76 ہزار پاؤنڈ ہے۔اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے اگر ملکوں کا حساب کریں تو ان میں زیادہ قربانیاں ہوئی ہیں۔کیونکہ امریکہ میں بھی اور پاکستان میں بھی اور ملکوں میں بھی پاؤنڈ کے مقابلہ میں شرح میں غیر معمولی کمی ہوئی ہے اور اس کے باوجود خدا کے فضل سے گزشتہ سال سے وصولی ایک لاکھ پاؤنڈ زیادہ رہی ہے۔اور مخلصین کی تعداد 4لاکھ 15 ہزار تک پہنچ چکی ہے۔لیکن جیسا کہ میں نے کہا ہے کہ اس میں اگر کوشش کی جائے تو بچوں کے ذریعے سے ہی میرے خیال میں معمولی کوشش سے پوری دنیا میں 6لاکھ کی تعداد کا اضافہ کیا جاسکتا ہے تا کہ کم از کم وقف جدید میں 10 لاکھ افراد تو شامل ہوں۔تحریک جدید کی طرح نئے آنے والوں کو بھی اس میں شامل کریں۔بچوں کو شامل کریں، خاص طور پر بھارت اور افریقہ کے ممالک میں کافی گنجائش ہے۔اللہ تعالیٰ توفیق دے۔ویسے تو میں سمجھتا ہوں اگر کوشش کی جائے تو ایک کروڑ کی تعداد ہوسکتی ہے۔لیکن بہر حال پہلے قدم پر آپ اتنی کوشش بھی کر لیں تو بہت ہے۔کیونکہ 1957ء میں جب حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ تحریک شروع کی تھی تو جماعت کی اس تعداد کو دیکھتے ہوئے یہ