خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 221
خطبات مسرور جلد سوم 221 خطبہ جمعہ 8 اپریل 2005 ء کہا کہ بتاؤ مجھ سے تمہیں کون بچائے گا۔تو میں نے تین بار کہا اللہ اللہ اللہ۔اس پر تلوار اس کے ہاتھ سے گر گئی اور وہ کچھ بھی نہ کر سکا۔(بخاری کتاب المغازی باب غزوة ذات الرقاع) ایک دوسری روایت میں آتا ہے کہ جب تلوار گر گئی تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ تلوار اٹھالی اور فرمایا کہ اب تمہیں کون بچا سکتا ہے۔اس پر وہ بہت گھبرایا اور معافیاں مانگنے لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا۔کیا تو گواہی دیتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں۔اس نے جواب دیا میں یہ نہیں مانتا لیکن میں آپ سے یہ عہد کرتا ہوں کہ آئندہ آپ سے کبھی نہیں لڑوں گا اور نہ ان لوگوں کے ساتھ شامل ہوں گا جو آپ سے لڑتے ہیں۔خیر آپ نے اس کو معاف کر دیا۔اور جب وہ اپنے لوگوں میں واپس گیا تو اس نے جا کے اعلان کیا کہ میں ایک ایسے شخص کے پاس سے آیا ہوں جو دنیا میں سب سے بہتر ہے۔(السيرة الحلبية ، باب ذكر مغازيه ، غزوة ذات الرقاع اب دیکھیں یہاں بھی جو شخص قتل کی نیت سے آیا تھا۔ہاتھ جوڑ کر اپنی آزادی کی بھیک مانگ رہا ہے، اپنی جان بخشی کی بھیک مانگ رہا ہے۔پھر جنگ احزاب ہے جس میں مسلمانوں پر انتہائی تنگی کے دن تھے۔مدینہ میں رہ کر ہی دشمن کا مقابلہ کرنے کا فیصلہ ہوا تھا اور یہ کسی خوف یا اللہ تعالیٰ پر تو گل کی کمی کی وجہ سے نہیں تھا بلکہ جنگی حکمت عملی کے تحت تھا۔اور مدینہ کے ارد گرد ایک خندق کھودی گئی تھی کہ دشمن کے فوری طور پر یکدم حملہ کرنے سے اس خندق کی وجہ سے محفوظ رہا جا سکے۔مسلمانوں کی ایسی حالت تھی ، اکثران میں سے غریب تھے ، اکثر روز کی روٹی کمایا کرتے تھے تو باوجود اس تنگی کے سب نے اکٹھے ہو کر اس خندق کی کھدائی میں حصہ لیا تا کہ ان حملوں سے محفوظ رہا جا سکے۔اور تمام عرب کے بہت سارے قبائل اکٹھے ہو کر حملہ آور ہوئے تھے۔مختلف روایتوں میں ان کی تعداد مختلف بتائی جاتی ہے۔بہر حال کم سے کم تعداد بھی 10 ہزار بتائی جاتی ہے۔کہیں 15 ہزار ہے، کہیں 24 ہزار ہے۔ویسے تو 10 ہزار کی تعداد بھی مدینہ کی آبادی کے لحاظ سے، اس چھوٹے سے شہر کے لحاظ سے بہت بڑی تعداد ہے۔بہر حال مسلمان اپنی تنگی کے حالات اور غربت کے حالات کے باوجود اس