خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 215 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 215

خطبات مسرور جلد سوم 215 خطبہ جمعہ 8 اپریل 2005 ء پھر دیکھیں شان تو کل اور یقین کہ اللہ تعالیٰ نیک کام میں ضرور مدد کرتا ہے۔اس لئے ہر نیکی کے کام میں اس پر تو کل کرتے ہوئے اس کو سرانجام دینے کی کوشش کرنی چاہئے کہ مخالف ترین سردار قریش جو تھا اس کے پاس بھی ایک غریب آدمی کا حق دلوانے کے لئے تشریف لے گئے۔چنانچہ اس واقعہ کا ذکر یوں آتا ہے کہ: ایک دفعہ اراشہ نامی شخص مکہ میں کچھ اونٹ بیچنے آیا اور ابوجہل نے اس سے یہ اونٹ خرید لئے مگر اونٹوں پر قبضہ کر لینے کے بعد قیمت ادا کرنے سے انکاری ہو گیا یا ٹال مٹول سے کام لینے لگا۔اس پر وہ شخص جو مکہ میں اکیلا تھا، مسافر تھا، کوئی اس کا دوست ساتھی نہیں تھا بے یارو مددگار تھا، بہت پریشان ہوا اور چند دن تک اسی طرح ابو جہل کے پیچھے پھرتا رہا، اس کی منت سماجت کرتا رہا۔مگر ہر دفعہ اس کو اسی طرح ٹال مٹول سے جواب ملتا رہا، آخر ایک دن وہ کعبہ میں جہاں قریش سردار بیٹھے ہوئے تھے گیا، اور کہنے لگا کہ اے معززین قریش! آپ میں سے ایک شخص ابوالحکم ہے۔اس نے میرے اونٹوں کی قیمت دبا رکھی ہے مہربانی کر کے مجھے اس سے دلوا دیں۔قریش کو شرارت سوجھی، انہوں نے مذاقاً کہا کہ ایک شخص ہے محمد بن عبد اللہ نامی وہ تمہیں یہ قیمت دلوا سکتا ہے، تم اس کے پاس جاؤ۔ان کا تو یہی خیال تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب یہ جائے گا تو آپ ہر حال میں انکار کریں گے۔اور جب آپ انکار کریں گے تو ان لوگوں کو ایک تو مذاق اڑانے کا موقع ملے گا، دوسرے باہر سے آنے والے لوگوں کو آپ کی حیثیت کا پتہ لگ جائے گا۔بہر حال جب یہ اراشہ وہاں پہنچا ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔اپنامد عابیان کیا کہ اس طرح میں نے ابو جہل سے رقم لینی ہے۔قریش نے اس آدمی کے پیچھے بھی اپنا ایک آدمی بھیج دیا کہ دیکھیں اب کیا ہوتا ہے۔بہر حال اس نے جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی کہانی سنائی اور یہ ذکر کیا کہ ابوالحکام نے میری رقم دبا رکھی ہے اور مجھے یہ بھی بتایا گیا ہے کہ آپ ہی ہیں جو میری رقم دلواسکتے ہیں۔آپ کی بڑی منت کی کہ مجھے یہ رقم دلواد ہیں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم فوراً اٹھے اور کہا چلو میں تمہارے ساتھ چلتا ہوں۔ابو جہل کے مکان پر آئے اور دروازے پر دستک دی، اس کو باہر بلوایا۔وہ باہر آیا تو آپ کی شکل دیکھتے ہی ایک دم حیران پریشان ہو گیا۔