خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 197 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 197

خطبات مسرور جلد سوم 197 خطبہ جمعہ یکم اپریل 2005ء ہو یا پہنچا ہو اس پر اللہ تعالیٰ کی ذات کا شکر ادا کیا کرتے تھے۔اور پھر اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا تو سوال ہی نہیں کہ اس کا شکر یہ ادا کئے بغیر ر ہیں۔چنانچہ روایت میں آتا ہے کہ جب بھی پہلی بارش ہوتی تھی تو اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے تھے۔اس بارے میں حضرت انس بن مالک بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم حضور ﷺ کے ساتھ تھے۔بارش ہوئی اور آپ علیہ نے اپنے سر سے کپڑا ہٹا دیا اور ننگے سر پر بارش لینے لگے۔پوچھنے پر فرمایا کہ یہ میرے رب سے تازہ تازہ آئی ہے۔(مسند احمد بن حنبل - جلد 3 صفحه 267- مطبوعه بيروت) ایک اور روایت میں آتا ہے کہ پہلی بارش پر بارش کے قطرے زبان پر لیا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے اور اس کا شکر گزاری کا طریقہ یہی ہے کہ اس کو اپنے اوپر لیا جائے یا اس کو چکھا جائے۔پھر اور بہت ساری باتیں ہیں مثلاً کھانے کے بعد اللہ تعالیٰ کا شکر کس طرح ادا کرتے تھے۔روایت میں آتا ہے ابوسعید سے روایت ہے کہ جب بھی کوئی چیز کھاتے یا پیتے تو اس کے بعد یوں شکر ادا کیا کرتے تھے کہ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَنَا وَسَقَانَا وَجَعَلَنَا مِنَ الْمُسْلِمِيْنَ “ کہ سب تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لئے ہیں جس نے ہمیں کھلایا اور پلایا اور ہمیں مسلمان بنایا۔(ابوداؤد كتاب الاطعمة باب ما يقول الرجل اذا طعم – حديث نمبر 3846) اور کھانے بھی یہ نہیں کہ کوئی بڑے اعلیٰ مرغن قسم کے کھانے کھایا کرتے تھے بلکہ نہایت سادہ غذا تھی اور بڑے شکر کے جذبے سے ہر چیز کھا رہے تھے۔چنانچہ ایک روایت میں آتا ہے، حضرت عبداللہ بن سلام کہتے ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو دیکھا آپ نے روٹی کے ایک ٹکڑے پر کھجور رکھی ہوئی تھی اور فرمارہے تھے کہ یہ کھجور اس روٹی کا سالن ہے۔(ابوداؤد - كتاب الأيمان - باب الرجل يحلف ان لا يأتدم) اور اکثر یہ ہوتا تھا کہ سرکہ سے یا پانی کے ساتھ ہی روٹی تناول فرمالیا کرتے تھے۔اور اس پر بھی اللہ تعالیٰ کا بے انتہا شکر ادا کیا کرتے تھے۔