خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 191
خطبات مسرور جلد سوم 191 خطبہ جمعہ 25 / مارچ 2005ء جنگ تھی اس کی وہ کیفیت نہ رہی اور مسلمانوں کو کافی نقصان اٹھانا پڑا۔تو غرض اس قسم کے بے شمار واقعات ہیں۔جنگوں وغیرہ میں بھی اور دوسرے قومی معاملات میں بھی جن سے آپ کے قوم سے مشورے لینے پر روشنی پڑتی ہے۔لیکن اس کے علاوہ بھی بہت سارے معاملات ہیں جن میں آپ لوگوں کے ذاتی معاملات میں اور اپنے ذاتی معاملات میں بھی اور بعض دوسرے معاملات میں بھی مشورے لیا کرتے تھے، مشورے دیا کرتے تھے۔چنانچہ جب نماز کے لئے بلانے کے طریق کی تجویز زیر غور آئی کہ کس طرح نماز کے لئے بلانا چاہئے اس وقت اذان کا رواج نہیں ہوا تھا تو بہت سارے لوگوں نے مشورے دیئے لیکن پھر اللہ تعالیٰ نے خود ہی خواب کے ذریعہ سے عبداللہ بن زید اور حضرت عمرؓ کو اذان کے الفاظ سکھا دیئے۔بہر حال جب یہ مشورے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے لئے تو اس کا روایت میں اس طرح ذکر آتا ہے کہ اس سے پہلے حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ نماز کے وقت بلانے کے لئے الصَّلوةُ جَامِعَة" کے الفاظ بآواز بلند پکارا کرتے تھے۔پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مشورہ کیا کہ کس طرح بلایا جائے۔مختلف لوگوں نے مشورے دیئے۔کسی نے کہا کہ عیسائیوں کی طرح ناقوس بجایا جائے کسی نے کہا کہ یہود کی طرح بگل بجایا جائے۔کسی نے کہا کہ آگ روشن کی جایا کرے۔لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان مشوروں کو ناپسند فرمایا اور اسی رات انصار میں سے حضرت عبد اللہ بن زید کو اور مہاجرین میں سے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خواب میں اذان کے الفاظ سکھائے گئے۔حضرت عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ نے خواب میں ایک شخص کو دیکھا۔اس شخص نے ان کو اذان اور اقامت سکھائی اور صبح ہونے پر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنی رؤیا آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کو سنائی۔اس پر آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک سچی خواب ہے۔بلال کے ساتھ جاؤ اور اسے اذان کے وہ الفاظ سکھاؤ جو تمہیں سکھائے گئے ہیں کیونکہ اس کی آواز تم سے بلند ہے۔حضرت عبداللہ بن زید کہتے ہیں کہ میں بلال کے ساتھ کھڑا ہوا اور ان کو اذان کے الفاظ بتاتا جاتا اور وہ بآواز بلند ان کو دوہراتے جاتے تھے۔تو جب یہ اذان ہو رہی تھی تو اس