خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 12 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 12

خطبات مسرور جلد سوم 12 خطبہ جمعہ 17 جنوری 2005ء سورو پیه شاید اس غریب نے کئی برسوں میں جمع کیا ہو گا۔مگر یہی جوش نے خدا کی رضا کا جوش دلایا۔(ضمیمه انجام آتهم ، روحانی خزائن جلد 11 صفحه 313-314 حاشیه) جب مینارۃ المسیح کی تعمیر ہونے لگی تھی اس وقت کا ذکر ہے۔فرمایا: ” ان دنوں میں میری جماعت میں سے دو ایسے مخلص آدمیوں نے اس کام کے لئے چندہ دیا ہے۔جو باقی دوستوں کے لئے در حقیقت جائے رشک ہیں۔ایک ان میں سے منشی عبد العزیز نام ضلع گورداسپور میں پٹواری ہیں ، جنہوں نے باوجود اپنی کم سرمائیگی کے ایک سو روپیہ اس کام کے لئے چندہ دیا ہے۔(جن کا پہلے ذکر آیا ہے ) اور میں خیال کرتا ہوں کہ یہ سوروپیہ کئی سال کا ان کا اندوختہ ہوگا۔اور فرمایا کہ یہ اس لئے زیادہ قابل تعریف ہیں کہ ابھی وہ ایک اور کام میں بھی ایک سور و پیہ چندہ دے چکے ہیں۔اور اپنے عیال کی بھی چنداں پرواہ نہیں کی بالکل پرواہ نہیں رکھی ) اور یہ چندہ پیش کر دیا۔دوسرے مخلص جنہوں نے اس وقت بڑی مردانگی دکھلائی ہے، میاں شادی خاں لکڑی فروش ساکن سیالکوٹ ہیں۔ابھی وہ ایک کام میں ڈیڑھ سو روپیہ چندہ دے چکے ہیں۔اور اب اس کام کے لئے دوسوروپیہ (چندہ) بھیج دیا ہے۔اور یہ وہ متوکل شخص ہے کہ اگر اس کے گھر کا تمام اسباب دیکھا جائے تو شاید تمام جائیداد 50 روپے سے زیادہ نہ ہو ( لیکن دوسو روپے چندہ دے دیا۔انہوں نے اپنے خط میں لکھا ہے کہ کیونکہ ایام قحط ہیں اور دنیوی تجارت میں صاف تبا ہی نظر آتی ہے تو بہتر ہے کہ ہم دینی تجارت کر لیں۔اس لئے جو کچھ اپنے پاس تھا سب بھیج دیا۔( حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں : ) اور درحقیقت وہ کام کیا جو حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کیا تھا۔" (مجموعہ اشتہارات جلد سوم صفحه 314-315) پھر فرمایا: ” جبی فی اللہ میاں عبدالحق خلف عبدالسمیع یہ ایک اول درجہ کا مخلص اور سچا ہمدرد اور محض اللہ محبت رکھنے والا دوست اور غریب مزاج ہے۔دین کو ابتداء سے غریبوں سے مناسبت ہے کیونکہ غریب لوگ تکبر نہیں کرتے اور پوری تواضع کے ساتھ حق کو قبول کرتے ہیں۔میں سچ سچ کہتا ہوں کہ دولت مندوں میں ایسے لوگ بہت کم ہیں کہ اس سعادت کا عشر بھی حاصل کر سکیں جس کو غریب لوگ کامل طور پر حاصل کر لیتے ہیں۔( دسواں حصہ بھی ان کے پاس نہیں ہوتا۔)