خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 182 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 182

خطبات مسرور جلد سوم 182 خطبہ جمعہ 25 / مارچ 2005ء تو جہاں اس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ آپ اپنے ذاتی معاملات کے بارے میں بھی کس قدر محتاط تھے اور مشورے لیا کرتے تھے وہاں یہ بھی واضح ہو گیا کہ جب اللہ تعالیٰ کا حکم آگیا تو پھر اس کے سامنے کسی کی نہیں سنی۔اور آئندہ کے لئے ایسے لوگوں کو سزا کے علاوہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق انکی گواہی بھی ختم ہوگئی۔پھر مدینہ ہجرت کرنے کے بعد بھی جب کفار نے یہ کوشش جاری رکھی کہ آپ کو اور مسلمانوں کو چین سے نہ بیٹھنے دیں اور تنگ کرنے کا کوئی ذریعہ نہیں چھوڑتے تھے تو آپ نے اس کے سدِ باب کے لئے صحابہ سے مشورہ لیا۔لیکن کیونکہ ابتدائی زمانہ تھا اس لئے آپ کی خواہش تھی که تمام متعلقہ سردار جو تھے انصار میں سے بھی وہ بھی اس میں شامل ہوں تا کہ بعد میں کسی کی طرف سے بھی کوئی عذر نہ ہو۔اس واقعہ کا تاریخ میں یوں ذکر ہوا ہے کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو قریش کے تجارتی قافلے کی روانگی کا علم ہوا تو آپ نے اس بات کا اظہار فرمایا کہ ہم ان کے قافلے کو ضرور روکیں گے۔پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے مشورہ طلب کیا اور صحابہ کو قریش کے ارادوں کے بارے میں بتایا۔اس پر حضرت ابو بکر صدیق کھڑے ہوئے اور اپنا مؤقف بڑے اچھے انداز میں پیش کیا۔پھر حضرت عمر بن خطاب کھڑے ہوئے اور بڑے اچھے انداز میں اپنا موقف پیش کیا۔پھر مقداد بن عمرو کھڑے ہوئے اور عرض کی یا رسول اللہ ! آپ نے جوارادہ کیا ہے اس کی تکمیل کے لئے چلیں۔ہم آپ کے ساتھ ہیں۔اللہ کی قسم ! ہم آپ سے ویسے نہیں کہیں گے جیسے بنی اسرائیل نے موسیٰ علیہ السلام سے کہا تھا۔کہ اِذْهَبْ أَنْتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَا إِنَّا هَهُنَا قَاعِدُون المائده : 25﴾ کہ تو اور تیرا رب جاؤ ان سے جنگ کرو ہم تو یہیں بیٹھیں ہیں۔بلکہ ہم یہ عرض کئے دیتے ہیں کہ آپ اور آپ کا رب دشمنان دین کے ساتھ جنگ کے لئے چلیں ہم آپ کے ساتھ ہو کر ان سے لڑیں گے۔اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے۔اگر آپ ہمیں بڑک الغماد ( یہ یمن کے قریب ایک مقام تھا ) وہاں تک بھی لے جانا چاہیں گے تو ہم وہاں تک پہنچنے کے لئے رستے کے تمام لوگوں سے لڑائی کرتے چلے جائیں گے۔یہاں تک کہ آپ وہاں فروکش ہوں۔اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم