خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 170 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 170

خطبات مسرور جلد سوم 170 خطبہ جمعہ 18 / مارچ 2005ء اونٹ کو بھی قابو کر لیتا ہے۔میں سخت مزاج لوگوں کو بھی محبت سے سدھا لیتا ہوں۔(مجمع الزوائد للهيثمي كتاب علامات النبوة باب في حسن خلقه وحيائه وحسن معاشرته) پھر ایک روایت میں آتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں میں قبائیں تقسیم فرمائیں اور ایک نابینا صحابی تھے، مخرمہ، ان کو کوئی قبا نہ دی۔وہ وہاں موجود نہیں تھے۔تو وہ اپے بیٹے کو لے کر آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور بیٹے کو اندر بھیجا کہ جاؤ اور جا کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بتا کے آؤ کہ میں باہر آیا ہوں، باہر تشریف لائیں۔اس پر وہ اندر گیا تو آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جب سنا کہ وہ نابینا صحابی مخرمہ آئے ہیں تو آپ باہر تشریف لائے تو آپ کے ہاتھ میں ایک قباتھی اور آپ نے فرمایا: اے مَـخْـرَمه! خَبَأْتُ هَذَا لَكَ كم اے مخرمہ !میں نے قباتمہارے لئے سنبھال کے رکھی ہوئی تھی۔(بخاری کتاب فرض الخمس باب قسمة الامام ما يقدم عليه ويخبأ لمن لم يحضره۔۔۔تو دیکھیں غریب اور نابینا صحابی کو بھولے نہیں۔بلکہ سامان ایسا آیا ہوتا تھا رش ہوتا تھا کاموں کا بوجھ ہوتا تھا تو بھول بھی جاتے تو ایسی کوئی حرج کی بات نہیں تھی۔لیکن اس کے لئے بھی حصہ نکال کر رکھا کہ وہ آئے گا اور اس کو دینا ہوگا۔پھر حضرت عائشہ روایت کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہدیہ قبول فرماتے اور پھر اس کے بدلے میں لوٹاتے بھی تھے۔جب آپ تحفہ لیتے تو لوٹا یا بھی کرتے تھے۔اور بڑھ کر لوٹایا کرتے تھے۔چنانچہ فتح مکہ کے موقع پر بھی روایات میں آتا ہے کہ جب قبائل گروہ در گروہ آنے شروع ہوئے اور آپ کے لئے تحائف لے کے آتے تھے تو آپ بڑھ کر ان کو تحائف لوٹایا کرتے تھے۔(ابوداؤد كتاب البيوع باب في قبول الهدايا) پھر حضرت ربیعہ بنت معوذ بیان کرتی ہیں کہ مجھے میرے والد مُعَوَّذ بن عَفْرَاء نے تازہ کھجوروں کا ایک طشت اور کچھ لکڑیاں دیں کہ حضور کی خدمت میں تحفہ کے طور پر لے جاؤ۔تو کہتی ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش ہوئی چھوٹی لکڑیاں حضور کو بہت پسند تھیں۔اس زمانے میں آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بحرین کے علاقے سے کچھ زیورات