خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 165 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 165

خطبات مسرور جلد سوم 165 خطبہ جمعہ 18 / مارچ 2005ء اور ڈھال وغیرہ اپنے سرہانے رکھ لی کہ صبح صبح سفر شروع کر دوں گا۔تو کہتے ہیں کہ جب صبح جانے کے لئے تیار تھا تو ایک شخص میرے پاس آیا اس نے کہا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں بلا رہے ہیں۔میں حضور کے پاس آیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ چار اونٹ سامان سے لدے پھندے بیٹھے ہیں اور ان پر مال لدا ہوا تھا۔تو جب میں حضور کی خدمت میں حاضر ہوا۔اجازت چاہی۔آپ نے مجھے دیکھتے ہی فرمایا کہ اے بلال! خوش ہو جا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے قرض کی ادائیگی کا سامان کر دیا ہے۔اور پھر فرمایا کہ کیا تم نے چار اونٹ نہیں دیکھے؟ یہ جو سامان سے لدے ہوئے ہیں۔میں نے کہا ہاں جی دیکھے ہیں۔فرمایا کہ سارا سامان لے لو اور سب قرضے اتار دو۔یہ فدک کے رئیس نے تحفہ بھجوائے ہیں۔تو کہتے ہیں کہ چنانچہ میں نے ایسے ہی کیا۔واپس آیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے۔فرمانے لگے کہ بلال جو تیرے پاس تھا اس کا کیا بنا۔تو کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! جو آپ پر تھا وہ سارا قرض اتار دیا اور اب کوئی قرض باقی نہیں رہا۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا کوئی مال بچا ہے۔میں نے کہا جی ہاں۔تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو بچ گیا اس کو بھی ضرورت مندوں کو دے دو اور میری تسلی اور راحت کا سامان کرو۔جب تک اس میں سے کچھ بھی موجود ہے میں گھر نہیں جاؤں گا۔جب نماز عشاء ہوگئی تو کہتے ہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا کہ کیا بنا؟ میں نے عرض کیا کہ مال پڑا ہوا ہے کوئی لینے ہی نہیں آیا۔تو حضور نے وہ رات مسجد میں گزاری۔اور جب دوسرے دن حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی نماز ادا کی تو پھر پوچھا کہ بلال مال کا کیا بنا۔تو میں نے عرض کی یا رسول اللہ! اللہ نے آپ کو اس مال سے بے فکر کر دیا ہے“۔یعنی سب تقسیم ہو گیا ہے۔اس پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ اکبر کہا اور اس کا شکر ادا کیا کہ سب مال تقسیم ہو گیا ہے۔(سنن ابی داؤد - كتاب الخراج - باب في الامام يقبل هدايا المشركين ) اب دیکھیں آپ لوگوں کے لئے کوئی معمولی قرض نہیں لے رہے۔بلکہ وہ اتنا زیادہ ہو گیا ہے کہ اس کی ادائیگی کے لئے بھی اونٹوں پہ جو مال لد کے آیا ہے اس سے ادا ئیگی ہورہی ہے ہے۔اور پھر جب اس میں سے کچھ بچ گیا تو پھر یہ خیال نہیں آیا کہ بچ گیا ہے اس کو رکھ لیا جائے۔