خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 163
خطبات مسرور جلد سوم 163 خطبہ جمعہ 18 / مارچ 2005ء تھے )۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی ضرورت بھی تھی۔آپ اندر گئے اور وہ چادر پہنی اور باہر تشریف لائے تو ایک صحابی نے کہا کیا عمدہ چادر ہے یہ مجھے پہنادیجئے۔اس پر لوگوں نے اس کو کہا کہ جب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو پہن لیا ہے اور آپ " کو اس کی ضرورت بھی ہے تو تم نے پھر یہ چادر کیوں مانگ لی۔حالانکہ تم یہ بھی جانتے ہو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی انکار نہیں کیا۔اس پر اس نے کہا کہ یہ میں نے پہننے کے لئے نہیں مانگی ہیں نے تو یہ اپنے کفن کے لئے مانگی ہے۔صلى الله (بخارى كتاب الجنائز - باب من استعد الكفن في زمن النبي ) ایک روایت میں آتا ہے۔ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں نوے ہزار درہم پیش کئے گئے۔آپ نے انہیں ایک چٹائی پر رکھوا لیا اور تقسیم فرمانے لگے۔ہر آنے والے سوالی کو عطا فرماتے تھے اور کسی کو بھی خالی ہاتھ نہ جانے دیتے۔جب آپ سارے درہم تقسیم فرما چکے تو ایک اور سوالی آ گیا۔اس وقت تک ختم ہو چکے تھے تو آپ نے فرمایا تم ہمارے نام پر اپنی ضرورت کی چیزیں خرید لو اور جب کہیں سے مال آئے گا یا میرے پاس گنجائش ہوگی تو میں تمہارا قرض اتار دوں گا۔تو اس موقع پر وہاں حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی بیٹھے ہوئے تھے۔انہوں نے عرض کی کہ یا رسول اللہ ! ( صلی اللہ علیہ وسلم ) جس کام کی استطاعت نہیں ہے وہ اللہ تعالیٰ نے ضروری قرار نہیں دیا۔یعنی جب آپ کے پاس نہیں ہے تو انکار کر دیں۔تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کا بڑا برا منایا۔آپ کو یہ بات پسند نہیں آئی۔وہاں ایک انصاری بیٹھے ہوئے تھے انہوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! آپ خرچ کرتے چلے جائیں اللہ آپ کو کبھی بھی مال کی کمی نہیں ہونے دے گا۔یہ سن کر آپ مسکرائے اور آپ کے چہرے پر خوشی کے آثار جھلکنے لگے۔اور فرمایا مجھے یہی حکم ملا ہوا ہے۔نہیں کی۔(الشفاء لقاضي عياض الباب الثانى الفصل الثالث عشر۔الجود والكرم) اور آپ کی اسی سخاوت کی وجہ سے آپ پر قرض بھی ہو جاتا تھا۔لیکن کبھی اس کی پرواہ