خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 153 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 153

خطبات مسرور جلد سوم 153 خطبہ جمعہ 11 / مارچ 2005ء سن کر اس کا کام نہ کر دیا حضور وہیں بیٹھے رہے۔پیش آئے۔( مسلم - كتاب الفضائل -باب قربة من الناس۔۔۔۔۔۔) اب یہ نہیں کہ بے عقل ہے، غریب ہے، چھوڑ دیا بلکہ اس سے بھی انتہائی عاجزی سے پھر ایک واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : ”خالی شیخیوں سے اور بے جا تکبر اور بڑائی سے پر ہیز کرنا چاہئے اور انکساری اور تواضع اختیار کرنی چاہئے۔دیکھو آ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جو کہ حقیقتا سب سے بڑے اور مستحق بزرگی تھے ان کے انکسار اور تواضع کا ایک نمونہ قرآن شریف میں موجود ہے۔لکھا ہے کہ ایک اندھا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آکر قرآن شریف پڑھا کرتا تھا۔ایک دن آپ کے پاس عمائد مکہ اور رؤسائے شہر جمع تھے اور آپ ان سے گفتگو میں مشغول تھے۔باتوں میں مصروفیت کی وجہ سے کچھ دیر ہو جانے سے وہ نابینا اٹھ کر چلا گیا۔یہ ایک معمولی بات تھی۔اللہ تعالیٰ نے اس کے متعلق سورۃ نازل فرما دی۔اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس کے گھر میں گئے اور اسے ساتھ لا کر اپنی چادر مبارک بچھا کر بٹھایا۔اصل بات یہ ہے کہ جن لوگوں کے دلوں میں عظمت الہی ہوتی ہے ان کو لازماً خاکسار اور متواضع بنا ہی پڑتا ہے کیونکہ وہ خدا تعالیٰ کی بے نیازی سے ہمیشہ تر ساں ولرزاں رہتے ہیں“۔(ملفوظات جلد 5 صفحہ 611-612 جدید ایڈیشن - الحکم مورخہ 18 مئی 1908ء صفحہ 1 تا 14 ) پھر دیکھیں اس عاجزی کا ایک اور اعلیٰ نمونہ۔آپ جن کے منہ سے نکلے ہوئے ہر کلمے کو خدا تعالیٰ قبولیت کا شرف بخشا تھا یہاں تک کہ آپ کو یہ دعا بھی کرنی پڑی کہ یا اللہ ! بعض دفعہ میں کسی کو مذاق میں یا ویسے ہی کوئی بات کہہ دیتا ہوں تو کہیں اس کی وجہ سے اس کو پکڑ میں نہ لے لینا بلکہ اس کے بداثر سے اس کو محفوظ رکھنا۔جس ہستی کا یہ یقین ہو کہ اللہ تعالیٰ میری اتنی سنتا ہے کہ عام کہی ہوئی بات سے بھی کوئی پکڑ میں نہ آ جائے تو اس کے باوجود وہ اپنے لئے کسی دوسرے کو دعا کے لئے کہے تو یہ عاجزی کی انتہا نہیں تو اور کیا ہے۔