خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 152
خطبات مسرور جلد سوم 152 خطبہ جمعہ 11 / مارچ 2005ء جس طرح متکبر بادشاہ سے لوگ خوفزدہ ہوتے ہیں۔اس بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس واقعے کا یوں ذکر فرمایا ہے۔فرماتے ہیں کہ: ”دیکھو ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کامیابیاں اگر چہ ایسی تھیں کہ تمام انبیائے سابقین میں اس کی نظیر نہیں ملتی مگر آپ کو خدا تعالیٰ نے جیسی جیسی کامیابیاں عطا کیں آپ اتنی ہی فروتنی اختیار کرتے گئے۔ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک شخص آپ کے حضور پکڑ کر لایا گیا۔آپ نے دیکھا تو وہ بہت کا پتا تھا اور خوف کھاتا تھا۔مگر جب وہ قریب آیا تو آپ نے نہایت نرمی اور لطف سے دریافت فرمایا کہ تم ایسے ڈرتے کیوں ہو؟ آخر میں بھی تمہاری طرح ایک انسان ہی ہوں اور ایک بڑھیا کا فرزند ہوں“۔(ملفوظات جلد 5 صفحه 548 جدید ایڈیشن - الحکم مورخه 26 30اگست 1908ء صفحه 3) پھر معاشرے کے دھتکارے ہوئے طبقے ، غریب لوگ بلکہ ذہنی طور پر کمزور لوگوں کے لئے بھی آپ انتہائی عاجزی سے ان کا خیال کیا کرتے تھے اور ان کے ساتھ عزت اور احترام سے پیش آیا کرتے تھے۔چنانچہ حضرت انس فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایک مجلس میں اپنے صحابہ کے ساتھ تشریف فرما تھے کہ مدینہ کی ایک عورت جس کی عقل میں کچھ فتو تھا، حضور کے پاس آئی اور عرض کیا کہ مجھے آپ سے کچھ کام ہے۔لیکن آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) سے ان لوگوں کے سامنے بات نہیں کرنا چاہتی میرے ساتھ آ کر علیحدگی میں سنیں۔حضور نے اس کی بات سن کر فرمایا کہ اے فلاں! تو مدینہ کے راستوں میں سے جس راستے پر تو چاہے میں وہاں تیرے ساتھ جاؤں گا۔وہاں بیٹھ کر تیری بات سنوں گا اور جب تک تیری بات سن کر تیری ضرورت پوری نہ کر دوں وہاں سے نہیں ہٹوں گا۔حضرت انس کہتے ہیں کہ حضور کی بات سن کر وہ حضور کو ایک راستہ پر لے گئی۔وہاں جا کر بیٹھ گئی۔حضور بھی اس کے ساتھ بیٹھ گئے اور جب تک اس کی بات