خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 151 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 151

خطبات مسرور جلد سوم 151 خطبہ جمعہ 11 / مارچ 2005ء ہوں اور اٹھتا بیٹھتا ہوں اور اس لئے میں کام بھی کرتا ہوں۔پھر ایک روایت میں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر میں، اپنے اہل خانہ کے ساتھ گھریلو کام کاج میں مددفرماتے تھے۔آپ کپڑے خود دھو لیتے تھے۔گھر میں جھاڑو بھی دے لیا کرتے تھے۔خود اونٹ کو باندھتے تھے۔اپنے پانی لانے والے جانور اونٹ وغیرہ کو خود چارہ ڈالتے تھے۔بکری خود دوہتے تھے، اپنے ذاتی کام بھی خود کر لیتے تھے۔خادم سے کوئی کام لیتے تو اس میں اس کا ہاتھ بھی بٹاتے تھے۔حتی کہ اس کے ساتھ مل کر آٹا بھی گوندھ لیتے۔بازار سے اپنا سامان خود اٹھا کر لاتے۔(تلخیص از مسند احمد بن حنبل جلد 6صفحه 121 واسد الغابة ذكر محمد ذكر جمل من اخلاقه ومعجزاته ،مشكوة المصابيح - كتاب الفضائل - باب في اخلاقه وشمائله صلى الله عليه صلى الله عافيه وسكم۔اب جو گھر میں کام ہو رہے ہیں وہ تو کسی کو باہر نظر نہیں آ رہے لیکن بازار سے جب سامان لا رہے ہیں کبھی اس بات کو عار نہیں سمجھا کہ خود اپنی چیزیں بازار سے اٹھا کر لاؤں گا تو لوگ کیا کہیں گے۔یہ اس معاشرے میں جہاں بڑائی کا بہت زیادہ اظہار ہوتا تھا اس معاشرے میں یہ ایک عجیب چیز تھی۔کبھی بھی آپ کو اس جھوٹی عزت کی پرواہ نہیں تھی۔پھر حضرت ابو مسعود روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے مخاطب ہوئے تو وہ تھر تھر کانپنے لگا۔آپ نے فرمایا کہ اپنے آپ کو سنبھالو میں کوئی بادشاہ نہیں بلکہ ایک ایسی عورت کا بیٹا ہوں جو سو کھا گوشت کھایا کرتی تھی۔(ابن ماجه - كتاب الأطعمة - باب (القديد تو اپنی عاجزی کا اظہار فرمایا۔آپ کو یہ برداشت نہ تھا کہ کوئی آپ کو ایک عام انسان سے زیادہ سمجھے۔یہ تو دنیا داروں کی نشانی ہے کہ وہ اپنے آپ کو عام انسانوں سے بڑا سمجھتے ہیں اور یہ ذہنیت اس تکبر کی وجہ سے ہوتی ہے جو ایک دنیا دار کے ذہن میں ہوتا ہے اور آپ جو عاجزی کے اعلیٰ ترین خلق پر قائم تھے کس طرح برداشت کر سکتے تھے کہ کوئی آپ سے اس طرح خوفزدہ ہو