خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 146 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 146

خطبات مسرور جلد سوم 146 خطبہ جمعہ 11 / مارچ 2005ء کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی مگر اس میں کچھ کمی بیشی ہوگئی۔جب آپ نے سلام پھیرا تو عرض کی گئی کہ کیا نماز میں کوئی نیا حکم نازل ہوا ہے۔آپ نے فرمایا یہ کیا کہہ رہا ہے؟ تو صحابہ نے عرض کی کہ آپ نے اتنی نماز پڑھائی ہے، کچھ کم یا زیادہ تھی۔یہ سن کر آپ قبلہ رخ مڑ گئے اور دو سجدے کئے۔سجدہ سہو کیا ، پھر سلام پھیرا، پھر ہماری طرف چہرہ کر کے فرمایا کہ اگر نماز کے بارے میں کوئی نیا حکم نازل ہوتا تو میں تمہیں ضرور بتا تا لیکن میں بھی تمہاری طرح ایک بشر ہوں۔میں بھی بھولتا ہوں جس طرح کہ تم بھولتے ہو۔پس جب میں بھول جاؤں تو مجھے یاد کروا دیا کرو۔اور جب تم میں سے کسی کو نماز پڑھتے ہوئے شک گزرے کہ کتنی رکعتیں پڑھی ہیں تو چاہئے کہ وہ یقینی بات کو اختیار کرے اور پھر فرمایا کہ سجدہ سہو کرلیا کرو۔(بخاری -كتاب الصلوة -باب التوجه نحو القبلة حيث كان) پھر حضرت ام سلمہ روایت کرتی ہیں کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم لوگ اپنے جھگڑے لے کر میرے پاس آتے ہو اور میں بھی ایک بشر ہوں اور ہوسکتا ہے کہ تم میں سے ایک اپنی دلیل پیش کرنے میں دوسرے سے زیادہ تیز ہو اور میں جو سنوں اس کے مطابق اس کے حق میں فیصلہ کر دوں۔پس جس کو میں اس کے بھائی کے حق میں سے کچھ دوں تو وہ اس کو نہ لے کیونکہ ایسی صورت میں اس کو آگ کا ایک ٹکڑا کاٹ کر دے رہا ہوں گا۔(بخاری-کتاب الجہاد والسير - باب حفر الخندق) با وجود اس کے کہ اللہ تعالی گواہی دیتا ہے کہ آپ کامل انسان تھے اور ظاہر ہے کہ کامل انسان کی فراست بھی ایک اعلیٰ درجہ پر پہنچی ہوئی فراست تھی۔اور اس فراست سے بھی آپ جھوٹ اور سچ کا کچھ اندازہ لگا سکتے تھے لیکن ایک بشر ہونے کا احساس آپ کو اس قدر تھا فرمایا کہ اگر مجھ سے اپنے حق میں غلط فیصلہ کرواؤ گے تو آگ کا ٹکڑا کھاؤ گے۔آج کل دیکھ لیں ایک معمولی عقل والا انسان بھی ہو کوئی ، اس کو فیصلے کا اختیار دیا جائے تو وہ کہہ دیتا ہے کہ مجھے تمہاری باتوں سے اندازہ ہو گیا ہے۔اتنی فراست مجھ میں ہے کہ میں سچ اور جھوٹ کو دیکھ لوں۔لیکن آپ کا ایک بڑا محتاط طریقہ تھا۔پھر ہم دیکھتے ہیں کہ لوگوں کے ساتھ