خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 145
خطبات مسرور جلد سوم 145 خطبہ جمعہ 11 / مارچ 2005ء ابن مریم کی کرتے ہیں۔میں صرف اللہ کا بندہ ہوں۔پس تم صرف مجھے اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہی کہو۔(بخاری - کتاب احاديث الانبياء - باب قول الله واذكر في الكتب مريم۔۔۔۔) تو فرمایا کہ میں تو ایک عاجز انسان ہوں، ایک بشر ہوں، اللہ کا بندہ ہوں۔ہاں اللہ تعالیٰ کے رسول ہونے کے ناطے، اللہ تعالیٰ کے حکموں پر چلتے ہوئے تم نے میری پیروی کرنی ہے۔کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی آخری شریعت مجھ پر اتاری ہے اور یہ کامل اور مکمل تعلیم بھی اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ خدا کے مقام کو بندے کے مقام سے نہ ملاؤ۔اور عیسائیوں کی طرح نہ کرنا جنہوں نے ایک عاجز انسان کو جو خدا کا نبی تھا اور نبی بھی ایک محدود قوم کے لئے تھا، اس عاجز انسان کو انہوں نے خدا کا بیٹا بنا لیا۔باوجود اس کے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ آپ کی اطاعت خدا تعالی کی اطاعت کے برابر ہے لیکن آپ نے امت کو یہی تلقین کی کہ اس سے یہ نہ سمجھنا کہ میرا مقام بندگی سے بڑھ گیا ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس ضمن میں فرماتے ہیں کہ: ” ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر دنیا میں کسی کامل انسان کا نمونہ موجود نہیں اور نہ آئندہ قیامت تک ہو سکتا ہے۔پھر دیکھو کہ اقتداری معجزات کے ملنے پر بھی حضور کے شامل حال ہمیشہ عبودیت ہی رہی اور بار بار ﴿إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ (الكهف : 111) ہی فرماتے رہے۔یہاں تک کہ کلمہ توحید میں اپنی عبودیت کے اقرار کا ایک جزو لازم قرار دیا۔جس کے بدوں مسلمان، مسلمان ہی نہیں ہوسکتا۔سوچو اور پھر سوچو، پس جس حال میں ہادی اکمل کی طرز زندگی ہم کو یہ سبق دے رہی ہے کہ اعلیٰ ترین مقام قرب پر بھی پہنچ کر عبودیت کے اعتراف کو ہاتھ سے نہیں دیا تو اور کسی کا تو ایسا خیال کرنا اور ایسی باتوں کا دل میں لانا ہی فضول اور عبث ہے“۔(رپورٹ جلسه سالانه 1897ء صفحه 140) پھر روزمرہ کے معمولات ہیں ان میں بھی امت کی تربیت کے لئے کوئی موقع بھی آپ ہاتھ سے نہ جانے دیتے تھے جس سے آپ کے بشر ہونے اور عاجز ہونے کا اظہار نہ ہوتا ہو۔چنانچہ ایک روایت میں آتا ہے، حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے