خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 144
خطبات مسرور جلد سوم 144 خطبہ جمعہ 11 / مارچ 2005ء میں کہہ رہا ہوں اس کے اعلیٰ معیار بھی تمہارے سامنے پیش کر رہا ہوں۔یہ عاجزی اور انکساری کے نمونے آپ نے عمل سے دکھائے کہ یہ میری زندگی کے ہر پہلو میں نظر آئیں گے۔معاشرے کے غریب اور کمزور طبقے سے بھی میرا یہی سلوک ہے، جاہل اور اجڈ لوگوں سے بھی میرا یہی سلوک ہے، بڑوں سے بھی یہی سلوک ہے اور چھوٹوں سے بھی یہی سلوک ہے۔اور یہی سلوک ہے جو میری زندگی کے ہر لمحے میں ہر ایک کے ساتھ تمہیں نظر آئے گا۔اور یہی کچھ دیکھتے ہوئے خدا تعالیٰ نے آپ کو یہ سند عطا فرمائی کہ وَإِنَّكَ لَعَلى خُلُقٍ عَظِيمٍ﴾ (القلم:5) یعنی ہم تم کھاتے ہیں کہ تو اپنی تعلیم اور عمل میں نہایت اعلیٰ درجہ کے اخلاق پر قائم ہے۔لیکن اللہ تعالیٰ کی اس قسم نے آپ کو عاجزی میں اور بھی بڑھایا۔چنانچہ ایک روایت میں آتا ہے۔حضرت حسین بن علی بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ مجھے میرے حق سے زیادہ بڑھا چڑھا کر پیش نہ کرو۔کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مجھے بندہ پہلے بنایا ہے اور رسول بعد میں۔(مجمع الزوائد للهيثمى - كتاب علامات النبوة -باب في تواضعه صلى الله اور حضرت حسینؓ کا یہ جو بیان ہے یہ کسی شخص کے اس رویہ پر ہے جس نے آپ سے بے انتہا محبت کر کے غیر ضروری طور پر بعض الفاظ آپ کے لئے استعمال کر دیئے تھے۔آپ نے فرمایا تم جو میرے لئے الفاظ استعمال کر رہے ہو مجھے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ بات اپنے لئے یاد ہے کہ یہ الفاظ آپ نے اپنے لئے فرمائے تھے کہ مجھے بھی میرے حق سے زیادہ بڑھا چڑھا کر پیش نہ کرو۔پس یہ ہے عاجزی کی وہ اعلیٰ مثال جو آپ نے اپنی اولاد در اولاد میں بھی پیدا کر دی کہ یا درکھو کہ میں بھی اللہ کا بندہ ہوں یعنی بَشَرٌ مِثْلُكُمْ (الكهف: 111) کی وضاحت فرمائی اور پھر فرمایا کہ پھر یہ اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ اس نے مجھ پر وحی نازل فرمائی اور اپنا رسول بنایا۔یہ اعلیٰ درجہ کی ہدایت اور آپ کا جواب آپ کے مقام کو اور بھی بلند کرتا ہے۔آپ کیونکہ ایک اعلیٰ درجہ کے عبد کامل تھے اس لئے یہ تعلیم دی اور اس پہ بڑا ز ور دیا کہ مجھے اللہ کا بندہ ہی سمجھنا۔اس بارے میں ایک اور روایت میں آتا ہے، حضرت عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میری بہت زیادہ تعریف نہ کرو جس طرح عیسائی