خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 140
خطبات مسرور جلد سوم 140 خطبہ جمعہ 4 / مارچ 2005ء روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے اہل قرآن! قرآن پڑھے بغیر نہ سویا کرو۔اور اس کی تلاوت رات کو اور دن کے وقت اس انداز میں کرو جیسے اس کی تلاوت کرنے کا حق ہے۔اور اس کو پھیلاؤ اور اس کو خوش الحانی سے پڑھا کرو۔اور اس کے مضامین پر غور کیا کرو تا کہ تم فلاح پاؤ۔(مشکوۃ المصابيح۔كتاب فضائل القرآن الباب الأول، الفصل الثالث حديث نمبر 2210) یعنی قرآن کریم کو پڑھو بھی اس کی تعلیم کو پھیلا ؤ بھی اور اس پر عمل بھی کرو۔دوسروں کو بھی بتاؤ۔پھر آپ نے فرمایا کہ جو شخص قرآن کریم پڑھتا ہے اور اس کا حافظ ہے وہ ایسے لکھنے والوں کے ساتھ ہوگا جو بہت معزز اور بڑے نیک ہیں۔اور وہ شخص جو قرآن کریم کو پڑھتا ہے اور اس کی تعلیمات پر شدت سے کار بند ہوتا ہے اس کے لئے دوہرا اجر ہوگا۔(بخاری، کتاب التفسير - تفسير سورة عبس- حديث نمبر 4937) تو زیادہ اجر قرآن کریم کی تعلیم پر عمل کرنے سے ہی ہے۔اور عمل اسی وقت آئے گا جب اس کے مفہوم کو سمجھ سکیں گے۔اور آپ اس کی بار بار تلقین اس لئے فرماتے تھے کہ قرآن کریم پڑھو اور سمجھو کہ قرآن کریم کو گھروں میں صرف سجاوٹ کا سامان نہ بنا کے رکھو یا صرف یہی نہیں کہ پڑھ لیا اور عمل نہ کیا بلکہ عمل سے ہی درجات بلند ہوتے ہیں۔پھر ایک اور ترغیب دیتے ہوئے آپ فرماتے ہیں کہ اونچی آواز سے قرآن پڑھنے والا ایسا ہے جیسے لوگوں کے سامنے خیرات کرنے والا اور آہستہ آواز میں قرآن پڑھنے والا ایسا ہے جیسا چپکے سے خیرات کرنے والا۔(سنن ابی داؤد - كتاب التطوع۔باب فى رفع الصوت بالقراءة في صلاة الليل) پھر ایک روایت میں آتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص نے قرآن پڑھا اور اس پر عمل کیا تو قیامت کے روز اس کے ماں باپ کو دو تاج پہنائے جائیں گے جن کی روشنی سورج کی چمک سے بھی زیادہ ہوگی، جو ان کے دنیا کے گھروں میں ہوتی تھی۔پھر جب اس کے والدین کا یہ درجہ ہے تو خیال کرو کہ اس شخص کا کیا درجہ ہوگا۔جس نے قرآن پر عمل کیا۔(سنن ابي داؤد - كتاب الوتر - باب ثواب قراءة القرآن)