خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 139 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 139

خطبات مسرور جلد سوم 139 خطبہ جمعہ 4 / مارچ 2005ء بھی قرآن کریم سنوں۔تو حضرت عبداللہ کہتے ہیں کہ میں نے سورۃ نساء کی تلاوت کرنا شروع کی یہاں تک کہ میں آیت فَكَيْفَ إِذَا جِفْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيْدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هَؤُلَاءِ شَهِيدًا» (النساء:42) پر پہنچا تو آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ٹھہر جاؤ۔حضرت عبد اللہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھا تو آپ کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے۔(بخاری کتاب فضائل القرآن - باب قول المُقْرِيُّ لِلْقَارِيُّ ، حَسْبُكَ) اس کا ترجمہ یہ ہے کہ پس کیا حال ہوگا جب ہم ہر امت میں سے ایک گواہ لے کر آئیں گے اور ہم تجھے ان سب پر گواہ بنا کر لائیں گے۔تو آپ کو اپنی اس گواہی پر اللہ کے حضور اپنے اس مقام کا سن کر ایک خشیت کی کیفیت طاری ہو گئی تھی اور پھر یہ کہ میری اس گواہی کی وجہ سے جو ظاہر ہے ایک سچی گواہی ہونی ہے، میری امت کے کسی شخص کو سزا نہ ملے۔آپ کو اس گواہی پر فخر نہیں تھا کہ مجھے تو بڑا مقام ملا ہے۔بلکہ فکر تھی۔اور اس فکر کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کویہ فکر بھی ہوتی تھی کہ امت میں قرآن کریم پڑھنے والے اور اس پر عمل کرنے والے پیدا ہوں جس کے لئے آپ ہمیشہ تلقین فرماتے رہتے تھے۔چنانچہ ایک روایت میں آتا ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے قرآن کے ماننے والو! قرآن کو تکیہ نہ بناؤ اور رات دن کے اوقات میں اس کی ٹھیک ٹھیک تلاوت کرو اور اس کے پڑھنے پڑھانے کو رواج دو۔اور اس کے الفاظ کو صحیح طریق سے پڑھو اور جو کچھ قرآن میں بیان ہوا ہے ہدایت حاصل کرنے کی غرض سے اس پر غور و فکر کرو تا کہ تم کامیاب ہو جاؤ۔اس کی وجہ سے کسی دنیاوی فائدے کی خواہش نہ کرنا۔بلکہ خدا کی خوشنودی کے لئے اس کو پڑھنا۔(مشکوۃ المصابیح)۔یعنی صرف اس کو زبانی سہارا نہ بناؤ ،قرآن کریم رکھا ہوا ہے اور پڑھ رہے ہیں۔بلکہ اس کو پڑھو اور اس پر عمل کرنے کی کوشش کرو۔اس کے الفاظ و معانی پر غور کرو اور پھر اس کا پڑھنا خدا کی رضا حاصل کرنے کے لئے ہو، نہ کہ ذاتی فائدے اٹھانے کے لئے جس طرح آج کل بعض لوگ کرتے ہیں۔پھر ایک روایت میں آتا ہے حضرت عبیدہ الملیکی رضی اللہ عنہ جو صحابہ میں سے ہیں