خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 138
خطبات مسرور جلد سوم 138 خطبہ جمعہ 4 / مارچ 2005ء رہے ہوتے تھے۔پھر قرآن کریم کا علم جاننے والوں ، حفظ کرنے والوں کی بھی آپ بے انتہا قدر کیا کرتے تھے کہ انہوں نے خدا تعالیٰ کا کلام اپنے دل و دماغ میں بسایا ہوا ہے۔اس زمانے میں جب جنگیں ہوا کرتی تھیں۔جنگ احد میں بہت زیادہ شہادتیں ہوئی تھیں۔اس میں قرآن جاننے والے، اس کا علم حاصل کرنے والے بہت سارے حفاظ بھی شہید ہوئے تھے۔تو جب سب کی تدفین کا معاملہ پیش ہوا تو اس وقت آپ نے تدفین کے لئے ایک اصول وضع فرمایا جس کا روایات میں یوں ذکر آتا ہے کہ جنگ احد کے دن زخمی صحابہ نے شہداء کے لئے قبریں کھودنے کی بابت اپنی مجبوری عرض کی بہت سارے زخمی بھی ہو گئے تھے اور جو شہید ہوئے تھے وہ کافی تعداد میں تھے۔علیحدہ علیحدہ ان کے لئے قبر کھودنا بڑا مشکل تھا۔طاقت اور ہمت نہیں تھی۔تو آپ نے فرمایا کہ کشادہ قبریں کھو دو اور انہیں عمدگی سے تیار کرو اور ایک قبر میں دو دو اور تین تین شہداء کو دفن کر واور فرمایا ان شہداء میں سے مقدم اس شہید کو رکھو جو قرآن زیادہ جاننے والا تھا۔(ترمذی ، کتاب الجہاد، باب ماجاء في دفن الشہداء) ان کا بھی اس وقت احترام ہے۔شہید تو سارے ہیں لیکن قرآن زیادہ جاننے والے کو مقدم رکھو۔قرآن کریم سے عشق و محبت تو آپ کو تھا ہی کیونکہ آپ پر نازل ہوا تھا۔جس کے اعلیٰ معیاروں کا مقابلہ کرنا تو ممکن نہیں ہے ہاں یہ معیار حاصل کرنے کے لئے حتی المقدور اپنی کوشش کرنی چاہئے۔کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہر اس شخص سے محبت تھی جو قرآن کریم عمدگی سے پڑھا کرتا تھا اور اس کو یاد کیا کرتا تھا۔اور قرآن کریم کو پڑھنے شوق سے پڑھنے اور یاد کرنے کا شوق پیدا کرنے کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ سے قرآن کریم سنا بھی کرتے تھے۔چنانچہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا کہ مجھے قرآن پڑھ کر سناؤ۔راوی کہتے ہیں میں نے عرض کی کیا میں آپ کو قرآن پڑھ کر سناؤں؟ حالانکہ آپ پر قرآن کریم نازل کیا گیا ہے۔آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا جواب سن کر فرمایا: میں یہ پسند کرتا ہوں اپنے علاوہ کسی اور سے