خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 133
خطبات مسرور جلد سوم 133 خطبہ جمعہ 4 / مارچ 2005ء قرآن کریم جب نازل ہوا تو سب سے زیادہ آپ اس کو آسانی اور روانی سے پڑھ سکتے تھے اور اسی روانی میں اس کے مطالب کو بھی خوب سمجھ سکتے تھے۔لیکن اس کے باوجود آپ کا قرآن کریم پڑھنے کا طریق کیا تھا۔اس بارے میں حضرت قتادہ سے روایت ہے کہ میں نے انس رضی اللہ عنہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قراءت کے متعلق سوال کیا تو آپ نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ٹھہر ٹھہر کر تلاوت کیا کرتے تھے۔(سنن ابی داؤد - كتاب الوتر - باب استحباب الترتيل في القراءة) آپ کا قرآن کریم پڑھنے کے بارے میں کیا طریق ہوتا تھا اس بارے میں اور بہت ساری روایات ہیں۔جن میں بیان کرنے والوں نے اپنے اپنے رنگ میں بیان کیا ہے۔اُن سے آپ کے حسن قراءت کی اور بھی زیادہ وضاحت ہوتی ہے۔ایک روایت یعلی بن مملک کی ہے کہ میں نے اُم المومنین ام سلمة رضی اللہ عنہا سے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے قرآن کریم کی تلاوت کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے کہا کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی قراءت قراءت مفسرہ ہوتی تھی۔یعنی ایک ایک حرف کے پڑھنے کی سننے والے کو سمجھ آ رہی ہوتی تھی۔(ابوداؤد كتاب الوتر، استجاب الترتيل في القرآءة۔حديث نمبر (1463) پھر حضرت اُمّ سلمہ ہی ایک اور جگہ روایت کرتی ہیں۔آپ کے پڑھنے کا طریق بیان کرتے ہوئے فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کریم کی تلاوت ٹھہر ٹھہر کر کرتے تھے آپ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ ﴾ پڑھ کر توقف فرماتے۔پھر الرَّحْمنِ الرَّحِيمِ پڑھتے اور پھر تو قف فرماتے ، رکتے۔(مشكوة المصابيح كتاب فضائل القرآن الباب الأوّل ، الفصل الثاني حديث نمبر (2205) تو آپ اتنا غور کر رہے ہوتے تھے۔کیونکہ اللہ تعالیٰ کے کلام میں ہر ہر لفظ میں معنی پنہاں ہیں اس لئے بڑے ٹھہر ٹھہر کر غور کرتے ہوئے وہاں سے گزرتے تھے۔پھر حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ