خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 7
خطبات مسرور جلد سوم 7 خطبہ جمعہ 7 / جنوری 2005ء قربانی کرنے کے معیار قائم کرنے والے ہیں اور حسب توفیق دوسرا چندہ دینے والے بھی ہیں۔اب گھانا کی مثال میں دیتا ہوں۔ہمارے بڑے اعلیٰ قربانی کرنے والے بھی ہیں، ایک ہمارے یوسف آڈوسٹی صاحب ہیں وہ لوکل مشنری بھی تھے، بلکہ اب بھی ہیں لیکن آنریری۔وہ کچھ دوائیاں وغیرہ بھی بنایا کرتے تھے۔چھوٹا سا شاید کاروبار تھا۔اور وہ بیمار بھی تھے ان کی ٹانگ میں ایک گہرا زخم تھا جو ہڈی تک چلا گیا تھا۔بڑی تکلیف میں رہتے تھے۔تو حضرت خلیفہ اسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کے علاج اور دعا سے اللہ تعالیٰ نے فضل فرمایا، زخم ٹھیک ہو گیا۔اور اس کے بعد انہوں نے پہلے سے بڑھ کر جماعت کی خدمت کرنا شروع کر دی۔اور کاروبار میں بھی کیونکہ ان کو کچھ جڑی بوٹیاں بنانے کا شوق تھا تو ایسی دوائیاں بنیں جن سے کاروبار خوب چمکا اور پیسے کی ایسی فراوانی ہوئی کہ جس کا وہ تصور بھی نہیں کر سکتے تھے۔لیکن یہ اس پیسے پر بیٹھ نہیں گئے ، بلکہ اپنے مدے کے مطابق جماعت کے لئے بے انتہا خرچ کیا، اور کر رہے ہیں۔مختلف عمارات اور مساجد بنوائیں۔اور بڑی بڑی شاندار مسجدیں بنوائیں، چھوٹی چھوٹی مسجدیں نہیں اور اب بھی ہمہ وقت قربانی کے لئے تیار ہیں۔گزشتہ سال جب میں دورے پر گیا تھا تو کسی خرچ کا ذکر ہوا تو انہوں نے کہا یہ میں نے کرنا ہے۔کیونکہ آجکل دنیا میں کا روباری حالات کچھ خراب ہیں مجھے اپنے طور پر پتہ لگا تھا کہ ان کے ساتھ بھی یہی معاملہ ہے، کاروبار اب اتنا زیادہ نہیں ہے۔ان پر بھی حالات کا اثر ہے۔تو میں نے ان کو کہا کہ کسی اور کو بھی ثواب لینے کا موقع دیں۔سارے کام خود ہی کرواتے جارہے ہیں۔لیکن دینی علم تھا۔قرآن حدیث کا علم بھی ہے۔تو پتہ ہے کہ میں نے تفصیلی کا منہ بند کیا تو کہیں مستقل بند ہی نہ ہو جائے اس لئے فوراً کہا کہ یہ تو میں نے کرنا ہے۔اور بہت سے دوسرے وعد اخراجات بھی ہیں کسی کو میں نے روکا نہیں ہے۔آگے آئیں اور کریں۔پھر ایک ابراہیم بونسو صاحب ہیں۔یہ بھی بڑی قربانی کرنے والے ہیں۔اکرا کے قریب انہوں نے ایک بہت مہنگی جگہ پہ جماعت کے لئے قبرستان اور بہشتی مقبرے کے لئے جگہ لے کر دی ہے اور بھی بہت سارے ہیں جو اپنی اپنی طاقت کے مطابق قربانی کرنے والے ہیں۔پھر دوسرے ملکوں میں بھی ہیں۔انڈونیشیا میں بھی ہیں۔یورپ اور امریکہ میں بھی ہیں۔اب زلزلہ