خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 6
خطبات مسرور جلد سوم خطبہ جمعہ 7 / جنوری 2005ء تو مغربی ممالک میں رہنے والے سوائے ان کے جن کو صرف کھانے کے لئے ملتا ہے کئی ایسے ہیں جو اچھی قربانی کر سکتے ہیں۔صرف دل میں حوصلہ پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔اگر علم ہو جائے کہ کتنا ثواب ہے، کتنی برکات ہیں، کتنے فضل ہیں تو حوصلہ پیدا ہوتا ہے۔ایک روایت میں آتا ہے حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ہر صبح دو فرشتے اترتے ہیں۔ان میں سے ایک کہتا ہے کہ اے اللہ ! خرچ کرنے والے سخی کو اور دے اور اس کے نقش قدم پر چلنے والے اور پیدا کر۔دوسرا کہتا ہے کہ اے اللہ ! روک رکھنے والے کنجوس کو ہلا کت دے اور اس کا مال و متاع بر باد کر دے۔(بخارى- كتاب الزكوة - باب قول الله تعالى : فاما من اعطى واتفى۔۔۔۔۔۔۔پس فرشتوں کی دعائیں لینے کے لئے اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے وارث بننے کے لئے ، ہمیشہ کوشش کرتے رہنا چاہئے کہ اللہ کی راہ میں جس قدر بھی خرچ کر سکیں کیا جائے۔پھر ایک روایت میں آتا ہے کہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ اپنی نسبتی ہمشیرہ حضرت اسماء بنت ابو بکر کو نصیحت فرمائی کہ اللہ کی راہ میں گن گن کر خرچ نہ کیا کرو، ورنہ اللہ تعالیٰ بھی تمہیں گن گن کر ہی دیا کرے گا۔اپنی روپوں کی تفصیلی کا منہ بند کر کے کنجوسی سے نہ بیٹھ جاؤ ور نہ پھر اس کا منہ بند ہی رکھا جائے گا۔فرمایا کہ جتنی طاقت ہے کھول کر خرچ کرو، اللہ پر توکل کرو، اللہ دیتا چلا جائے گا۔(بخارى كتاب الزكوة باب الصدقة فيما استطاع) تو جن احمدیوں کو اس راز کا علم ہے۔وہ اتنا بڑھ بڑھ کر چندہ دے رہے ہوتے ہیں کہ بعض دفعہ انہیں روکنا پڑتا ہے۔لیکن ان کا جواب یہ ہوتا ہے کہ آپ لوگ ہماری تھیلیوں کا منہ بند کرنا چاہتے ہیں؟ ہم نے اپنے خدا سے ایک سودا کیا ہوا ہے آپ اس کے بیچ میں حائل نہ ہوں۔یہ اظہار دنیا میں ہر جگہ ہر قوم میں نظر آتا ہے۔اور احمدی معاشرے میں ہر قوم میں نظر آنا چاہئے۔جن میں کمی ہے ان کو بھی اس کی طرف توجہ دینی چاہئے۔اور اللہ کے فضل سے بڑی تعداد ایسی ہے جو اس رویے کا اظہار کرتی ہے چاہے وہ افریقہ کے غریب ممالک ہوں یا امیر ممالک۔یہ نہ کوئی سمجھے کہ افریقہ کے غریب لوگ صرف اپنے پر خرچ ہی کرواتے ہیں ان میں بھی بڑے بڑے اعلیٰ