خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 132
خطبات مسرور جلد سوم 132 خطبہ جمعہ 4 / مارچ 2005ء انتہائی نرم تھا کہ جس طرح فرعون اور اس کی قوم تباہ ہوئے یہ لوگ بھی کہیں انکار کی وجہ سے تباہ نہ ہو جائیں۔اس بات پر اتنا یقین تھا کہ اللہ تعالیٰ نے جو یہ ذکر کیا ہے، جو مثالیں دی ہیں، تو انکار کی وجہ سے آئندہ بھی ایسے واقعات ہو سکتے ہیں۔تو کہیں میری قوم بھی اس انکار کی وجہ سے تباہ نہ ہو جائے۔پھر ایک روایت میں آتا ہے۔حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ مجھے ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آیت ﴿وَمَا قَدَرُوا اللهَ حَقَّ قَدْرِهِ وَالْأَرْضُ جَمِيْعًا قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيمَةِ وَالسَّمَوَاتُ مَطْوِيتُ بِيَمِيْنِه سُبْحَنَهُ وَتَعَالَى عَمَّا يُشْرِكُونَ (الزمر:68) کے بارہ میں دریافت کیا۔جس کا ترجمہ یہ ہے کہ انہوں نے اللہ کی قدر نہیں کی جیسا کہ اس کی قدر کا حق تھا۔اور قیامت کے دن زمین تمام تر اس کے قبضہ میں ہوگی اور آسمان اس کے داہنے ہاتھ میں لیٹے ہوئے ہوں گے۔تو آنحضور صلی اللہ یہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں جبار ہوں، میں یہ ہوں، میں یہ ہوں ، اللہ تعالیٰ اپنی بزرگی بیان کرتا ہے۔راوی کہتے ہیں آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم یہ بات اس جوش سے بیان کر رہے تھے کہ منبر رسول اس طرح ہل رہا تھا کہ ہمیں اس بات کا خطرہ محسوس ہوا کہ کہیں منبر آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کو ساتھ لئے ہوئے گر نہ پڑے۔(الدر المنثور - تفسير سورة الزمر زير آيت نمبر 68 ) اللہ تعالیٰ کی بڑائی بیان کرتے ہوئے آپ کا جوش غیر معمولی ہو جایا کرتا تھا۔کیونکہ آپ کی ذات ہی تھی جسے اللہ تعالیٰ کی جبروت اور قدرتوں کا صحیح ادراک تھا، صحیح علم تھا، صحیح گہرائی تک آپ پہنچ سکتے تھے۔اور آپ ہی کی ذات تھی جس کے سامنے خدا تعالیٰ کی ذات سب سے بڑھ کر ظاہر ہوئی۔تو آپ کو پتہ تھا کہ اللہ تعالیٰ کی کیا کیا قدرتیں ہیں اور طاقتیں ہیں۔اور اللہ تعالیٰ کا اگر رحم نہ ہو تو یہ لوگ جو اس کی باتوں سے دور ہٹتے جارہے ہیں، اس کے حکموں پر عمل نہیں کرتے اور سمجھتے ہیں کہ ہم بڑی طاقتوں کے مالک ہیں، اس پہ بڑا فخر ہے، اپنے آپ کو بہت کچھ سمجھ رہے ہوتے ہیں تو اُن کو وہ اس طرح تباہ و برباد کر دے جس طرح ایک کیڑے کی بھی شاید کوئی حیثیت ہو، ان کی وہ بھی حیثیت نہیں ہے۔