خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 131
خطبات مسرور جلد سوم 131 خطبہ جمعہ 4 / مارچ 2005ء آپ کے آپس کے تعلق کی بہت اچھی طرح مثال پیش کی ہے۔کہ قرآن کریم اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم دو موتی ہیں جو ایک ہی سیپ سے اکٹھے نکلے ہیں۔قرآن کریم کی تعلیم کو جانا چاہتے ہو تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کو دیکھ لو۔اور اگر آ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے بارے میں معلومات لینا چاہتے ہو، اگر یہ دیکھنا چاہتے ہو کہ آپ کے صبح و شام اور رات دن کس طرح گزرتے تھے، تو قرآن کریم کے تمام حکموں کو ، اوامر و نواہی کو پڑھ لوآپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت سامنے آجائے گی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک اور مقدس زندگی کی اس سے بڑھ کر اور کیا دلیل ہوسکتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ہادی کامل اور پھر قیامت تک کے لئے اور اس پر کل دنیا کے لئے مقرر فرمایا۔مگر آپ کی زندگی کے کل واقعات ایک عملی تعلیمات کا مجموعہ ہیں۔جس طرح پر قرآن کریم اللہ تعالیٰ کی قولی کتاب ہے اور قانون قدرت اس کی فعلی کتاب ہے، اسی طرح پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی بھی ایک فعلی کتاب ہے جو گویا قرآن کریم کی شرح اور تفسیر (ملفوظات جلد 3 صفحه 34 جدید ایڈیشن) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا قرآن کریم سے عشق اور محبت ، اس کے احکامات پر عمل، اللہ تعالیٰ کی خشیت، اس بارے میں آپ کی سیرت ہمیں کیا بتاتی ہے؟ آپ کا قرآن کریم کو پڑھنے کے بارے میں کیا طریق تھا؟ اس بارے میں چند مثالیں احادیث سے پیش کرتا ہوں۔حضرت عبداللہ بن سائب رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ میں نماز فجر پڑھائی آپ نے سورۃ مومنون سے تلاوت شروع کی۔یہاں تک کہ جب موسیٰ اور ہارون علیہ السلام کا ذکر آیا تو شدت خشیت الہی کے باعث آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کو کھانسی شروع ہوگئی۔اس پر آپ نے رکوع کیا۔(مسلم - كتاب الصلاة -باب القراءة في الصبح) تو یہ خشیت اس حد تک تھی کہ اپنی قوم کی بھی ساتھ یقینا فکر ہو گی۔کیونکہ آپ کا دل تو