خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 130
خطبات مسرور جلد سوم 130 خطبہ جمعہ 4 / مارچ 2005ء لیا اور اس پر عمل کر کے دکھایا تا کہ اپنے ماننے والوں کو بھی بتا سکیں کہ میں بھی ایک بشر ہوں، جہاں تک بشری تقاضوں کا سوال ہے۔لیکن ایسا بشر ہوں جس کو خدا تعالیٰ نے اپنا پیارا بنایا ہے۔اور اپنی طرف جھکنے کی وجہ سے پیارا بنایا ہے۔تم بھی اس تعلیم پر عمل کرو، میری سنت کی پیروی کرو اور اپنی اپنی استعدادوں کے مطابق خدا تعالیٰ کا قرب پانے والے بنو۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کریم کے حکموں پر کس حد تک عمل کرتے تھے۔اس بارے میں حضرت عائشہ کا مشہور جواب ہر ایک کے علم میں ہے کہ جب آپ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خلق کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا کہ کیا تم قرآن نہیں پڑھتے۔چھنے والے نے کہا: کیوں نہیں۔تو انہوں نے فرمایا کہ "فَإِنَّ خُلُقَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ الْقُرْآن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق قرآن ہی تھے۔(مسلم ، کتاب صلاة المسافرين ، باب جامع صلاة الليل ومن نام عنه او مرض حديث نمبر 1739 ) یعنی قرآن کریم میں جس طرح لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبادت کی۔قرآن کریم میں جس طرح لکھا ہے کہ حقوق العباد ادا کرو۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حقوق العباد ادا کئے۔قرآن کریم میں جن باتوں کو کرنے کا حکم دیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان باتوں اور حکموں پر مکمل طور پر عمل کیا، ان کو بجالائے ، ان کی ادائیگی کی۔قرآن نے جن باتوں سے رکنے کا حکم دیا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان باتوں کو ترک کیا۔قرآن کریم نے روزوں کا حکم دیا، صدقات کا حکم دیا، زکوۃ کا حکم دیا۔آپ نے روزوں ، صدقات اور زکوۃ کے اعلیٰ ترین معیار قائم کر دیئے۔قرآن کریم نے معاشرے میں لوگوں کے ساتھ نرمی کا حکم دیا تو آپ نے نرمی کی وہ انتہا کی جس کی مثال نہیں مل سکتی۔اپنے جانی دشمنوں کو بھی معاف فرما دیا۔اگر اللہ تعالیٰ نے اصلاح معاشرہ کے لئے سختی کا حکم دیا تو آپ نے اس کی بھی پوری اطاعت وفرمانبرداری کی۔غرض کون سا حکم ہے قرآن کریم کا جس کی آپ نے نہ صرف پوری طرح بلکہ اعلیٰ ترین معیار قائم کرتے ہوئے تعمیل نہ کی ہو۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن کریم کے،