خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 117
خطبات مسرور جلد سوم 117 خطبہ جمعہ 25 فروری 2005ء آسمان کے قلابے ملانا آپ کی عادت نہ تھی۔ہمیشہ میانہ روی شعار تھا۔کسی دنیوی معاملے کی وجہ سے نہ غصے ہوتے ، نہ برا مناتے۔لیکن اگر حق کی بے حرمتی ہوتی اور یا حق غصب کر لیا جاتا تو پھر آپ کے غصے کے سامنے کوئی نہیں ٹھہر سکتا تھا۔جب تک اس کی تلافی نہ ہو جاتی آپ کو چین نہیں آتا تھا۔حق کے لئے بہر حال سینہ سپر رہتے تھے اور وہ برداشت نہیں تھا کہ حق بیان نہ کیا جائے۔اپنی ذات کے لئے کبھی غصے نہ ہوتے اور نہ اس کے لئے بدلہ لیتے۔جب اشارہ کرتے تو پورے ہاتھ سے کرتے صرف انگلی نہ ہلاتے۔جب آپ تعجب کا اظہار کرتے تو ہاتھ کو الٹا دیتے۔جب کسی بات پر خاص طور پر زور دینا ہوتا تو ایک ہاتھ کو دوسرے ہاتھ سے اس طرح ملاتے کہ دائیں ہاتھ کی ہتھیلی پر بائیں ہاتھ کے انگوٹھے کو مارتے۔جب کسی ناپسندیدہ بات کو دیکھتے تو منہ پھیر لیتے اور جب خوش ہوتے تو آنکھ کسی قدر بند کر لیتے۔آپ کی زیادہ سے زیادہ جنسی کھلے تقسیم کی حد تک ہوتی۔یعنی زور کا قہقہہ نہ لگاتے۔ہنسی کے وقت آپ کے دندان مبارک ایسے نظر آتے تھے جیسے بادل سے گرنے والےسفید سفید اولے ہوتے ہیں۔؛ (شمائل ترمذی ـ باب كيف كان كلام رسول الله ) حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ : میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا۔آپ نے سرخ جوڑ ادھاری دار پہنا ہوا تھا اور پڑکا باندھا ہوا تھا۔آپ سے بڑھ کر خوبصورت میں نے کبھی کسی کو نہیں دیکھا۔حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک تلوار کی طرح ( لمبا اور پتلا ) تھا تو آپ نے جواب دیا کہ نہیں بلکہ چاند کی طرح ( گول صلى الله (بخارى كتاب المناقب - باب صفة النبي ﷺ اور چمکدار ) تھا۔عرب بھی مثالیں خوب تلاش کرتے ہیں۔عربوں کے لئے تلوار اس زمانے میں ایک بہت اہم چیز تھی اور مردانگی اور مردانہ وجاہت کی نشانی بھی کبھی جاتی تھی۔انہوں نے شاید اسی لئے تلوار کی مثال دی۔لیکن جس صحابی نے دیکھا تھا انہوں نے کہا کہ نہیں ایسے چہرے کی مثال تو چاند کی ہے جو گول بھی ہے، چمکدار بھی ہے۔جس سے ٹھنڈی روشنی بھی نکلتی ہے۔جس کو مستقل دیکھنے کو