خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 116 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 116

خطبات مسرور جلد سوم 116 خطبہ جمعہ 25 فروری 2005ء اور یہ صبر وشکر اور وقار اللہ تعالیٰ نے آپ کی فطرت میں بچپن سے ہی پیدا کر دیا تھا۔چنانچہ روایات میں آتا ہے کہ جب آپ کی چچی بچوں کوکھانا وغیرہ یا کوئی اور چیز دیا کرتی تھیں تو آپ وقار سے ایک طرف بیٹھے رہتے تھے اور بلانے پر بڑے باوقار طریقے سے جا کر کوئی چیز لیا کرتے تھے۔پھر آپ کا حسن کلام ہے یعنی آپ کس طرح گفتگو فرمایا کرتے تھے۔حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں کہ : حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح ٹھہر ٹھہر کر گفتگو فرمایا کرتے تھے کہ اگر کوئی شخص آپ کے الفاظ کو گننا چاہے تو گن سکتا تھا۔(سنن ابی داؤد کتاب العلم - باب في سرد الحديث) یہ ٹھہراؤ اس لئے تھا کہ لوگ سمجھ جائیں اور کسی قسم کا ابہام نہ رہے۔کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ اس بات کی سمجھ نہیں آئی۔لیکن اگر اس کے باوجود بھی کوئی دوبارہ پوچھتا تھا تو آپ بڑے تحمل سے بیان فرمایا کرتے تھے۔بلکہ روایات میں آتا ہے کہ بعض دفعہ تو آپ اہم باتوں کو کئی کئی دفعہ دوہرایا کرتے تھے۔آپ کے حسن کلام اور اعلیٰ اخلاق کے بارے میں حضرت حسن بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ : میں نے اپنے ماموں ہند بن ابی ہالہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی گفتگو کے انداز کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ یوں لگتے جیسے کسی مسلسل اور گہری سوچ میں ہیں اور کسی خیال کی وجہ سے آپ کو کچھ بے آرامی سی ہے۔آپ اکثر چپ رہتے ، بلا ضرورت بات نہ کرتے۔جب بات کرتے تو پوری وضاحت سے کرتے۔آپ کی گفتگو مختصر لیکن فصیح و بلیغ ، پر حکمت اور جامع مضامین پر مشتمل ،مگر زائد باتوں سے خالی ہوتی تھی۔لیکن اس میں کوئی کمی یا ابہام نہیں ہوتا تھا۔نہ کسی کی مذمت اور تحقیر کرتے ، نہ توہین و تنقیض کرتے۔چھوٹی سے چھوٹی نعمت کو بھی بڑا ظاہر فرماتے۔اللہ تعالیٰ کا شکر کرتے۔شکر گزاری کا رنگ نمایاں تھا۔کسی چیز کی مذمت نہ کرتے۔نہ اتنی تعریف جیسے وہ آپ کو بے حد پسند ہو۔مزیدار یا بدمزہ کے لحاظ سے کھانے پینے کی چیزوں کی تعریف یا مذمت میں زمین و