خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 5 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 5

خطبات مسرور جلد سوم 5 خطبہ جمعہ 7 / جنوری 2005ء یہ مشورہ ہوتا ہے اور مخالفین کا یہ مطالبہ ہے کہ جماعت کے تمام فنڈ حکومت اپنے قبضے میں لے لے۔تو یہ بیچارے حسد کی آگ میں جلتے رہتے ہیں۔کیونکہ ان کی چھٹیل زمین میں یہ برکت پڑہی نہیں سکتی۔اور پھر سوائے حسد کے ان کے پاس اور کچھ رہ نہیں جاتا۔ہم تو اس بات پر خوش ہیں کہ اللہ کے حکموں پر عمل کر رہے ہیں اور اس بات سے اللہ کے رسول نے ہم پر رشک کیا ہے۔صحابہ تو ہر وقت اس فکر میں رہتے تھے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے کوئی تحریک ہو اور ہم عمل کریں۔امراء تو اپنی کشائش کی وجہ سے خرچ کر دیتے تھے لیکن غرباء بھی پیچھے نہیں رہتے تھے۔وہ بھی اپنا حصہ ڈالتے رہتے تھے۔چاہے وہ شبنم کے قطرے کے برابر ہی ہو۔حضرت ابو مسعود انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب صدقہ کرنے کا ارشاد فرماتے تو ہم میں سے کوئی بازار کو جاتا اور وہاں محنت مزدوری کرتا اور اسے اجرت کے طور پر ایک مد اناج وغیرہ یا جو بھی چیز ملتی وہ اسے صدقہ کرتا ، یہ کوشش ہوتی کہ ہم نے اس میں حصہ لینا ہے۔اور کما کے حصہ لینا ہے۔اور راوی بیان کرتے ہیں کہ ان میں سے بعضوں کا یہ حال ہے کہ ایک ایک لاکھ درہم ان کے پاس موجود ہیں۔جو مزدوری کر کے چندے دیا کرتے تھے۔(بخاری- كتاب الاجارة -باب من آجر نفسه ليحمل على ظهره ثم تصدق به۔۔۔۔۔۔تو یہ ہے برکت قربانی کی۔اس لئے جو لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ بہت غریب ہیں۔بعض کہہ دیتے ہیں حالات اجازت نہیں دیتے کہ چندہ دے سکیں اس لئے معذرت۔ایسے لوگوں کو سوچنا چاہئے کہ چندہ نہ دے کر اللہ تعالیٰ کے فضلوں اور وعدوں سے محروم ہو رہے ہیں۔پاکستان میں بھی غربت بہت زیادہ ہے لیکن وہاں اللہ کے فضل سے بڑھ چڑھ کر ہر تحریک میں حصہ لیتے ہیں چندہ دیتے ہیں۔اور عموماً جو انہوں نے مختلف تحریکات اور چندوں میں پہلی دوسری پوزیشن لینے کا اپنا ایک معیار قائم کیا ہوا ہے۔اس کو قائم رکھتے ہیں اس کی تفصیل تو آگے آخر میں بتاؤں گا۔