خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 112
خطبات مسرور جلد سوم 112 خطبہ جمعہ 25 فروری 2005ء صرف ایسا حسن نہیں تھا جو دور سے ہی حسین نظر آتا ہو کہ واسطہ پڑنے پر کچھ اور نکلے۔بلکہ اس حسین چہرے سے جب ملاقات کا موقع پیدا ہوتا تھا تو آپ کے اعلیٰ اخلاق ، آپ کی نرم اور میٹھی زبان اس حسن کو چار چاند لگا دیا کرتے تھے اور حضرت ام معبد نے یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خلق کا بڑا خوبصورت نقشہ کھینچا ہے کہ قریب سے دیکھنے سے انتہائی شیریں زبان اور عمدہ اخلاق والے تھے۔لوگوں سے معاملات کے بارے میں حضرت علیؓ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ: آپ لوگوں میں سب سے زیادہ فراخ سینہ تھے۔اور گفتگو میں لوگوں میں سب سے زیادہ کچے تھے۔اور ان میں سب سے زیادہ نرم خو تھے اور معاشرت اور حسن معاملگی میں سب سے زیادہ معزز اور محترم تھے۔(الشفاء لقاضي عياض - الباب الثاني الفصل السادس عشر۔حسن عشرته ) یعنی آپ میں بہت ہی زیادہ وسعت حوصلہ تھی۔باوجود بچے ہونے کے اگر کسی معاملے میں آپ سے کوئی بدکلامی کرتا تو پھر بھی آپ قصبر وتحمل کا مظاہرہ فرماتے تھے۔چنانچہ جب ایک دفعہ آپ سے ایک یہودی نے واپسی قرضہ کا مطالبہ کیا اور قرضے کی مدت ابھی ختم نہیں ہوئی تھی اور یہ مطالبہ اس سے پہلے ہی کر دیا تھا اور سختی بھی کی بلکہ آپ کی گردن میں کپڑا کھینچا تب بھی آپ نے انتہائی نرمی سے اس سے گفتگو فرمائی اور میعاد کا حوالہ نہیں دیا بلکہ اس کا مطالبہ پورا کر دیا۔آپ کا حسن ، آپ کے اعلیٰ اخلاق ، آپ کا صدق آپ کے چہرے سے چھلکا کرتا تھا اور ہر اس شخص کو نظر آتا تھا جو تعصب کی عینک اتار کر دیکھتا تھا۔چنانچہ حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ : جب میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا مبارک چہرہ دیکھا تو میں جان گیا کہ یہ کسی جھوٹے کا چہرہ نہیں ہوسکتا۔(دارمی - کتاب الاستئذان- باب فی افشاء السلام) اب اسلام لانے سے پہلے یہ بڑے یہودی عالم تھے لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کو کسی نیکی کی وجہ سے حق کی پہچان کروائی تھی اور جب انہوں نے انصاف کی نظر سے دیکھا تو پہچان لیا کہ یقیناً