خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 94 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 94

خطبات مسرور جلد سوم 94 خطبہ جمعہ 18 فروری 2005ء مخالفت کے ایک واقعہ کا یوں ذکر بھی ملتا ہے۔حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ : ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ کے پاس نماز پڑھ رہے تھے اس وقت ابو جہل اور اس کے ساتھی وہاں بیٹھے ہوئے تھے۔اس دوران اُن میں سے کسی نے کہا تم میں سے کون فلاں لوگوں کی اونٹنی کی بچہ دانی لائے گا تا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی پیٹھ پر جبکہ وہ سجدے میں ہوں رکھے۔چنانچہ ان لوگوں میں سے بد بخت ترین شخص اٹھا اور اونٹنی کی بچہ دانی اٹھالایا اور وہ اس وقت کا انتظار کرتا رہا جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں ہوں۔پھر جونہی آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا اس نے وہ بچہ دانی آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی پیٹھ پر آپ کے دونوں کندھوں کے درمیان رکھ دی۔راوی کہتے ہیں کہ میں ان کو یہ سب کچھ کرتے دیکھتا رہا مگر میں کچھ کر نہیں سکتا تھا۔کاش مجھ میں ان کو روکنے کی طاقت ہوتی۔پھر وہ لوگ ایسا کرنے کے بعد ہنستے ہوئے ایک دوسرے پر گرنے لگے جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسلسل سجدے میں رہے۔آپ اپنا سر نہیں اٹھا رہے تھے۔یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس فاطمہ آئیں اور انہوں نے اس بچہ دانی کو آپ کی کمر سے ا تارا۔اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر اٹھایا۔پھر آپ نے تین مرتبہ کہا اے اللہ ! ان قریش کو تو ہی سنبھال اور یہ بددعا بھی ان پر بڑی گراں گزری۔کیونکہ وہ جانتے تھے کہ حضور کی دعا قبول ہوتی ہے۔پھر آپ نے نام لے لے کر دعا کی کہ اے اللہ ! میں تجھ سے ابو جہل، عقبہ بن ربیعہ، شیبہ بن ربیعہ، ولید بن عقبہ، امیہ بن خلف، عقبہ بن ابی معیط پر گرفت کرنے کی درخواست کرتا ہوں۔تو راوی کہتے ہیں کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ساتویں آدمی کا بھی نام لیا تھا۔مجھے یاد نہیں رہا۔لیکن بہر حال راوی کی روایت یہ ہے کہ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے۔میں نے ان لوگوں کو جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دعا میں گنا تھا بدر کے گڑھے میں قتل ہونے کے بعد گرے ہوئے دیکھا“۔(بخاری کتاب الوضوء ـ باب اذا القى على ظهر المصلّى قذراو جيفة حديث نمبر 240) تو یہ قبولیت دعا کے نظارے اللہ کا پیارا ہی دکھا سکتا ہے۔کیا کوئی دنیاوی دلچسپیوں میں